خطبات محمود (جلد 15) — Page 70
سال ۱۹۳۴ء آدمی نہیں جس پر الزام نہ لگائیں۔یہ اندرونی دشمن ہیں جو باہر والوں سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ ان کی باتیں سننے والا سمجھتا ہے یہ بھی آخر احمدی ہیں، مخلص ہیں۔اور اس وجہ سے ان کے دھوکا میں آجاتا ہے۔ان کی ایسی حرکات سے اپنوں کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے اور دشمن دلیر ہوتے ہیں۔ان سب چیزوں کو دیکھ کر میں تو ایسا محسوس کرتا ہوں کہ گویا ایک چھوٹی سی جماعت کو چاروں طرف سے ایک فوج گھیرے چلی آرہی ہے اور قریب ہے کہ اس کے نکلنے کیلئے ایک انچ بھی جگہ باقی نہ رہے۔ایک زلزلہ ہے جو اگرچہ ظاہر تو نہیں ہوا مگر زمین نیچے خوفناک آگ شعلہ زن ہے۔یہ صحیح ہے کہ الہی سلسلوں کے متعلق اللہ تعالی کی سنت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سب ہمارے لئے کچھ نہیں لیکن اگر یہ فتنے جماعت کو کمزور بھی کردیں تو وہ امانت جو اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے سپرد ہے، اس کے ضائع ہو جانے کا احتمال ضرور ہے۔اور جس طرح دودھ زمین پر گر جانے کے بعد اُٹھایا نہیں جاسکتا اسی طرح اللہ تعالی کی امانت اور اس کا نور ایک دفعہ ضائع ہو جانے کے بعد پھر اسے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔پھر اس کیلئے نئی جماعتیں ہی قائم ہوا کرتی ہیں اور نئے نبی مبعوث ہوتے ہیں۔سیال چیز کی حفاظت کیلئے ایک پیالہ کافی ہوتا ہے خواہ اس کا منہ کس قدر ہی کھلا کیوں نہ ہو مگر گیس کو بوتل میں بھی بند نہیں کیا جاسکتا خواہ اس کا منہ کس قدر ہی تنگ کیوں نہ ہو اور نور تو سب سے زیادہ لطیف شے ہے جب وہ ہاتھ سے نکل جائے تو پھر اسے حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔اس لحاظ مخالفت بڑی چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل شامل ہو تو مصائب کے پہاڑ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔اگر انسان رات کو انتہائی غم میں سوئے تو صبح خوشی میں بیدار ہو سکتا ہے۔پس یہ ای چیزیں چھوٹی بھی ہیں اور بڑی بھی۔سوال صرف یہ ہے کہ کیا خدا کے سامنے ہمارے اندر اس قدر اثابت ہے کہ اس کا فضل آجائے گا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دل کی ہر وقت ایک سی حالت کا نہ رہنا ان کا نقص ہے حالانکہ یہ بات نہیں۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک صحابی آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تو منافق ہوں۔میں جب آپ کے سامنے آتا ہوں تو میرے دل کی حالت اور ہوتی ہے لیکن جب چلا جاتا ہوں تو وہ حالت بدل جاتی ہے۔آپ نے فرمایا اگر ہر وقت ایک ہی حالت رہے تو انسان مر نہ جائے ہے۔تو ایمان کی حالتیں بھی کبھی کچھ ہوتی ہیں اور کبھی کچھ۔رسول کریم ﷺ بھی ہر وقت نہ ایک ہی دعا کرتے تھے اور نہ ایک سی عبادت۔بدر کے موقع پر آپ نے اس قدر دعا کی کہ صحابہ کو کہنا پڑا کہ آپ کے