خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 69

خطبات محمود ۶۹ سال ۱۹۳۴ء نہیں اور مخالفت کی شدت جن کی آنکھوں کے سامنے نہیں وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ کیا پرواہ ہے، ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔مگر جس جماعت کو میں یا جماعت کے دوسرے لوگ دیکھتے ہیں وہ اس سے ناواقف ہیں۔سب بڑے اور چھوٹے اس وقت ہماری مخالفت پر کمربستہ ہیں۔احمدیت کی ابتداء میں انگریز مختلف نہ تھے، سوائے چند ابتدائی ایام کے جبکہ وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے تھے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہو رہے ہیں۔بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات لو سمجھتے ہیں، باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ غصہ سے ہمیں دیکھتے ہیں۔اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں میں ہی دیں۔پھر وہ لوگ جو پہلے سیاسی کاموں کی وجہ سے ہمارے مداح تھے ان میں سے بھی کچھ تو کھلے طور پر اور کچھ مخفی طور پر ہماری مخالفت میں لگ گئے ہیں۔بعض تو صاف احراریوں سے مل گئے ہیں، ان کی مجالس میں جاتے ہیں، ان کیلئے چندے جمع کرتے ہیں اور چند گنتی کے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب نے یہی طریق اختیار کر رکھا ہے۔غرض یہ کہ ہمارے خلاف ایک طرف احراری تحریک ہے، پھر پریس کی مخالفت ہے، مولویوں کا جوش علاوہ ہے۔سیاسی میدان میں کام کرنے والے سمجھتے ہیں کہ دیانتدار لوگوں کے آنے سے ہمارے کام میں روک پیدا ہو جائے گی، مولوی سمجھتے ہیں ہماری روزی بند ہو جائے گی، حکام اس لوگ سمجھتے ہیں کہ خوشامد کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منتظم جماعت اگر مخالف ہوگئی تو ہمارے لئے بہت پریشانیوں کا موجب ہوگی۔اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جماعت احمدیہ کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے۔تو پھر جماعت احمدیہ گورنمنٹ کی مخالف ہو کس طرح سکتی ہے۔لیکن شاید وہ "گربہ کشتن روز اول" کے مطابق ہمیں دبا دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ایک ذمہ دار افسر سے یہ بات سن کر مجھے سخت حیرت ہوئی کہ حکومت نے تحقیق کرائی ہے کہ قادیان میں حکومت کے خلاف کیا سازشیں ہو رہی ہیں۔اور یہ ایسی بات ہے جسے سن کر ہر عقل مند ہنسے گا اور حکومت کے اس نادانی کے فعل سخت متعجب ہوگا۔پھر خود ہمارے اندر منافقوں کا ایک جال ہے جو تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔وہ کبھی جھوٹی خبریں شائع کرتے ہیں، کبھی جھوٹی باتیں بنا کر دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن کریم میں انہی کے متعلق آتا وَالْمُرْحِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ ہے کوئی اچھا کام نہیں جس پر وہ اعتراض نہ کریں۔اور کوئی نیک ہے۔