خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 452

خطبات محمود ۴۵۲ بعض اور کے ذریعہ سے میں تجربہ کرنا چاہتا ہوں جماعت کے اخلاص کا ان نوجوانوں کے اخلاص کا جو تو گل کر کے نکل کھڑے ہوں اور جو اتنی بھی فکر نہ کریں کہ کل کی روزی انہیں کہاں سے ملے گی وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرکے چلے جائیں اور تبلیغ کرتے پھریں۔اسی طرح جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے وہ حواری نکلے تھے جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنے پاس کچھ مت رکھو اور کل کی روٹی کی فکر نہ کرو پھر جہاں سے خدا تعالیٰ انہیں کھلائے کھالیں اور جہاں سے پلائے پی لیں ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ہر گاؤں کے لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ جو مہمان آئے تین دن تک اس کی مہمانی کریں لے۔پس اگر کسی گاؤں کے لوگ انہیں کھلائیں تو کھالیں اور اگر نہ کھلائیں تو سمجھیں کہ اس گاؤں والوں نے اپنا حق پورا نہیں کیا۔اس میں گاؤں والوں کا قصور ہو گا، مہمان بننے والوں کا نہیں۔بعض نوجوانوں کو میں اس طرح استعمال کرنا چاہتا ہوں اور بعض کیلئے اور طریق اختیار کروں گا۔بہرحال ان کی آزمائش کی جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ قربانی کے متعلق ان کے دعوے کیسے ہیں۔میں امید کرتا ہوں ان کے دعوے ایسے نہیں ہوں گے جیسا کہ اپنے بازو پر ر گدوانے والے کا دعویٰ تھا۔گودنے والے نے جب اس کے بازو پر سوئی ماری تو اس نے کہا کیا گودتے ہو؟ اس نے کہا دایاں کان گودتا ہوں وہ کہنے لگا کیا دائیں کان کے بغیر شیر رہتا ہے یا نہیں؟ گودنے والے نے کہا رہتا ہے۔اس نے کہا پھر اسے چھوڑ دو آگے چلو۔اس کے بعد جب اس نے سوئی ماری تو وہ پوچھنے لگا اب کیا گودتے ہو؟ اس نے کہا بایاں کان گود تا ہوں۔کہنے لگا اگر وہ بھی کٹ جائے تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا رہتا ہے۔وہ کہنے لگا اسے بھی چھوڑ دو۔اسی طرح اس نے ہر ایک عضو پر کہا آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور کہنے لگا اب کوئی شیر نہیں رہتا۔میں امید کرتا ہوں کہ جن نوجوانوں نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کیلئے پیش کیا ہے ان کا پیش کرنا اس رنگ کا نہ ہوگا بلکہ حقیقی رنگ کا ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ جو نوجوان میری سکیم کے ماتحت کام پر نہ لگائے جائیں ان میں سے بھی جو بریکار گھروں پر بیٹھے ہیں اور جو باہمت ہیں، انہیں خود بخود نکل جانا چاہیے۔وہ جائیں اور جہاں سے خدا انہیں دے کھائیں اور ساتھ تبلیغ کرتے رہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جہاں کوئی جائے، وہاں سے اسے تین دن تک کھانا کھانے کا حق ہے ہے۔اب یہ اسلامی طریق جاری نہیں ورنہ ہوٹلوں وغیرہ کی ضرورت ہی نہ رہے۔جہاں کوئی جائے وہاں کے لوگوں کا فرض ہو