خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 453

خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۴ء کہ اسے کھانا دیں۔اس قسم کا نظام تو جب خدا تعالیٰ چاہے گا قائم ہوگا اور اُسی وقت حقیقی و امن دنیا کو حاصل ہوگا۔آج کل تو موجودہ حالات پر ہی قناعت کرنی ہوگی۔اس موجودہ گری ہوئی حالت میں بھی میں سمجھتا ہوں زمیندار طبقہ مہمان نوازی کے فرائض کو نہیں بھولا اور یہ آسمانی فقیر جہاں کہیں جائیں گے اول تو ضرورت نہ ہوگی کہ خود کہیں کہ کھانے کو دو لیکن اگر ضرورت پیش آئے تو ایسا کرنا بھی جائز ہے۔صحابہ نے خود مهمانی مانگی۔ایک جگہ کچھ صحابہ گئے تو وہاں ایک شخص ان کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا کہ ایک آدمی کو سانپ نے ڈس لیا اس کا کوئی علاج جانتا ہے۔ایک صحابی نے کہا میں جانتا ہوں مگر دس بکریاں لوں گا۔چنانچہ دس بکریاں لے کر انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور وہ شخص اچھا ہو گیا۔بعض ساتھیوں نے اس کے اس فعل پر اعتراض کیا اور بکریوں کی تقسیم رسول کریم ﷺ سے استصواب کر لینے تک ملتوی کی گئی۔رسول کریم ﷺ کے حضور جب معاملہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا بالکل جائز ہے بلکہ تم ان بکریوں میں میرا حصہ بھی رکھو سے۔رسول کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ میرا حصہ بھی رکھو اس غرض سے تھا کہ ان لوگوں کا شک دور ہو جائے۔اور آپ کا بکریوں کو جائز قرار دینا میرے نزدیک اس قدر کم کر کے روپیہ لینے کی اجازت کیلئے نہ تھا جس قدر کہ یہ بتانے کیلئے کہ مہمانی مسافر کا حق ہے اور اگر کسی جگہ کے لوگ یوں مہمانی نہ دیں تو دوسرے جائز ذرائع سے اسے۔سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔مہمانی طلب کرنا سوال نہ ہوگا بلکہ حق ہوگا۔ہماری جماعت یہ حق ادا کرتی ہے سینکڑوں غیر احمدی آتے اور لنگر خانہ سے کھانا کھاتے ہیں۔ہم نے کبھی کسی کو منع نہیں کیا اور جب ہم ان کو مہمان نوازی کا حق دیتے ہیں تو ہمارے آدمی جاکر اگر یہ حق لیں تو یہ ناجائز نہیں ہے۔پس وہ ہمت اور جوش رکھنے والے نوجوان جو میری سکیم میں آنے سے باقی رہ جائیں وہ اپنے طور پر ایسے علاقوں میں چلے جائیں جہاں احمدیت ابھی تک نہیں پھیلی اور وہاں دورہ کرتے ہوئے تبلیغ کریں۔چند معمولی دوائیں ساتھ رکھ کر عام بیماریوں کا جن کے علاج میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا علاج بھی کرتے جائیں۔ایسا معمولی علاج انہیں سکھایا جاسکتا ہے اور ارزاں ادویہ مہیا کی جاسکتی ہیں۔یہ مزید ثبوت ہو گا اس بات کا کہ ہمارے نوجوان دین کے متعلق اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں اور انہیں خود بخود ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب اس قسم کے لوگ کسی جماعت میں پیدا ہو جائیں تو خواہ وہ کتنی ہی کمزور اور کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو