خطبات محمود (جلد 15) — Page 451
خطبات محمود ۴۵۱ سال ۱۹۳۴ ادا کر دیتے ہیں۔اس پر وہ دیت لینے کیلئے تیار ہو گئے۔تب ابو جہل نے اور شرارت کی۔اس نے مقتول کے ایک بھائی کو بلا کر کہا کہ تمہارے بھائی کا بدلہ لئے بغیر فوج واپس لوٹنا چاہتی ہے اگر ایسا ہوا تو تم کسی کو منہ نہ دکھا سکو گے۔اس نے کہا پھر میں کیا کروں۔عرب میں یہ طریق تھا کہ جب کوئی اپنی مظلومیت اور مصیبت کی فریاد کرنا چاہتا تو ننگا ہو کر رونا پیٹنا اور واویلا کرنا شروع کر دیتا ابو جہل نے کہا تم ننگے ہو کر پیٹنا شروع کردو۔اس نے ایسا ہی کیا وہ ننگا ہو کر رونے پیٹنے لگ گیا۔ایسی حالت میں جونہی اس نے کہا کہ میرا بھائی ایسا بہادر تھا، ایسا محسن تھا مگر آج اس کی بے قدری کی جارہی ہے اور کوئی اس کا انتقام لینے کیلئے تیار نہیں۔تو اہل عرب جو احسان کی قدر کرنے میں مشہور تھے ، انہوں نے تلواریں اور لڑائی شروع ہو گئی۔وہ اسلام کیلئے تو عظیم الشان فتح کا دن تھا مگر جنہوں نے لڑائی کرائی ، ان کیلئے کیسا دن تھا۔اُس دن کفار کے تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے ہے اور جیسا کہ بائیبل کی پیشگوئی تھی کہ قیدار کی شوکت باطل ہو جائے گی ہے۔مکہ کی وادیوں میں رونے اور پیٹنے کے سوا کوئی شغل نہ رہا کیونکہ ہر خاندان میں سے کوئی نہ کوئی مارا گیا۔تو فوری طور پر لڑا دینا بالکل معمولی بات ہے اصل میں قربانی وہی ہوتی ہے جو لمبے عرصہ کیلئے ہو۔پس وہ لوگ جو اپنے آپ کو آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندے کہتے ہیں، وہ بھی جماعت احمدیہ کی قربانی کے نمونہ کی قربانی پیش نہیں کرسکتے۔وہ نوجوان جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے، ان کے متعلق آگے تجربہ سے پتہ لگے گا کہ کس قدر شاندار قربانیاں کرتے ہیں۔مگر ان میں سے بعض نے ایثار اور اخلاص کا جو اظہار کیا ہے وہ ویسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ بدر کے موقع پر دو انصاری لڑکوں نے یہ کہہ کر دکھایا تھا کہ ابو جہل کہاں ہے۔اور جبکہ عبدالرحمن " ابھی اس حیرت میں تھے کہ انہوں نے کیا سوال کیا ہے اور وہ ابو جہل کی طرف انگلی سے اشارہ ہی کرنے پائے تھے کہ دونوں لڑکے کود کر اُس پر جاپڑے اور اگرچہ وہ زخمی ہوگئے لیکن انہوں نے ابو جہل کو جا گرایا اور اُس کی گردن پر تلوار چلادی۔اس کے ارد گرد جو محافظ کھڑے تھے وہ دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے شے۔بعض نوجوانوں نے ایسے ہی جوش کا اظہار کیا ہے وہ دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرنے اور ہر قسم کی تکلیف اُٹھانے کیلئے تیار ہیں۔پھر یہ قربانی ایک دو دن کیلئے یا ایک دو ماہ کیلئے نہیں بلکہ مسلسل تین سال کیلئے ہے۔میں نے بتایا تھا کہ بعض نوجوانوں کو ہندوستان سے باہر بھیجا جائے گا اور بعض کو ہندوستان میں ہی دورہ کیلئے بھیجوں گا۔0