خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 388

خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۴ء بتاتے ہیں کہ ہماری تحریک سے یہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان حالات میں بالکل ممکن ہے کہ ہماری آئینی تحریک کو یہ دخل دے کر غیر آئینی بنادیں۔کشمیر کی تحریک کو ہی دیکھ لو یہ سب آئین کے اندر تھی، کشمیر گورنمنٹ نے سنسر بٹھا بٹھا کر ہمارے خطوط پکڑے، جو اب تک اس کے پاس محفوظ ہیں مگر وہ کسی خط کو شائع کردے ہمیں کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ہم ہمیشہ خداتعالی کے فضل سے قانونی سے قانونی اور آئینی رنگ میں کام کرنے والے ہیں۔مگر چونکہ ایسے موقعوں پر لوگوں میں جوش بھی پیدا کرنا پڑتا ہے اس لئے اس قسم کے لوگ فائدہ اٹھا کر کام کو ا خراب کر دیتے ہیں۔پس چونکہ اول میں ڈرتا ہوں کہ مبادا ایسے کارکن مجھے میسر نہ ہوں جو پورے طور پر میری بات کو سمجھنے والے ہوں اور وہ میرے منشاء کے خلاف کام کرنے لگیں۔دوسرے مجھے یہ بھی خوف ہے کہ نہیں عام مسلمان اس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہماری آئینی تحریک کو خراب نہ کردیں اس وجہ سے میں نے بات کو اس خیال سے لمبا کیا ہے کہ اگر حکومت سے محبت سے سمجھوتہ ہو جائے تو یہ ہمارے لئے زیادہ اچھا رہے گا بجائے اس کے کہ اختلاف کر کے ہمیں بات کو پھیلانا پڑے۔گو بعض تجاویز ایسی بھی ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے ان کے بروئے کار لانے میں زیادہ خطرہ نہ ہو اور نہ بالعموم دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں مگر سیاسیات میں کوئی شخص کہہ نہیں سکتا کہ آئندہ کو کس طرف چلی جائے گی۔پس میں نے اب تک یہ طریق رکھا ہے کہ حکومت پنجاب کے پاس اپیل کی جائے اور اگر وہاں شنوائی نہ ہو تو آگے قدم بڑھایا جائے مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ اس طریق پر چلنے سے اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی عطا فرمائے گا۔کشمیر کے سلسلہ میں اگر اسی طریق سے ہمیں کامیابی ہو گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہاں کامیاب نہ ہوں۔گورنمنٹ کیلئے ایسا کرنا کوئی مشکل امر بھی نہیں۔دُنیا میں ہمیشہ دو وجہوں سے ، حکومتیں تلافی مافات کرنے سے رکتی ہیں۔یا تو اس لئے کہ تلافی کرنا اس کیلئے ناممکن ہوتا ہے۔یا اس لئے کہ تلافی کرنے میں وہ اپنی ہتک سمجھتی ہیں لیکن اس موقع پر نہ ناممکن ہونے کا سوال ہے اور نہ ہتک کا بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر حکومت اپنی بات پر قائم رہتی ہے تو اس میں ہماری ہتک ہے اور اگر وہ اس کا ازالہ کردے تو اس میں اس کی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے۔گورنمنٹ نے ہماری کسی جائداد کو تو لوٹا نہیں جس کا واپس کرنا اس کیلئے مشکل ہو رہا ہے۔وہ کیوں دلیری نہیں کہہ دیتی کہ اسے واقعات غلط رنگ میں پہنچائے گئے ہیں اور اس بناء پر اُس نے جو ށ