خطبات محمود (جلد 15) — Page 389
۴۱۹۳۴ ۳۸۹ خطبات محمود کچھ کیا اُس پر اسے بہت افسوس ہے۔اگر گورنمنٹ ایسا کہہ دے تو یہ اس کی عزت کا موجب ہوگا کیونکہ سچ کا اقرار کرنا ذلت نہیں بلکہ عزت ہوتا ہے اور دنیا میں ہمیشہ وہی معزز سمجھا جاتا ہے جو حق پر قائم رہتا ہے۔لیکن اگر ہم اپنی بات چھوڑ دیں تو اس میں ہماری ذلت ہے کیونکہ ہماری بے غیرتی اور بزدلی کا ثبوت ملتا ہے کہ ناحق اور بلاوجہ تذلیل کو برداشت کر لیا۔پس قربانی گورنمنٹ کی طرف سے ہونی چاہیے نہ کہ ہماری طرف سے۔دُنیا میں بھی جب دو قربانیوں کا مقابلہ ہو اور ایک کی قربانی اسے ذلیل کرنے والی اور دوسرے کی قربانی اسے معزز بنانے والی ہو تو اسے ہی قربانی کرنی پڑتی ہے جس کی قربانی اسے معزز بنانے والی ہو۔پس گورنمنٹ کیلئے اس میں کوئی مشکل نہیں ، صرف ہمت کی بات ہے۔غرض چونکہ ہم اگر بات چھوڑ دیں تو اس میں ہماری تذلیل ہوتی ہے، نہ صرف اپنی نگاہوں میں بلکہ دشمنوں کی نگاہوں میں بھی اور پھر اخلاق بھی بگڑتے ہیں کیونکہ کوئی قوم جو بغیر کسی جرم کے ذلت برداشت کرلیتی ہے کبھی سر نہیں اٹھا سکتی اور اس قابل ہوتی ہے کہ مٹی میں اسے دفن کر دیا جائے۔لیکن اگر حکومت قدم اٹھائے تو یہ اس کی عزت کا موجب ہے اس لئے گورنمنٹ کا ہی فرض ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے صلح کیلئے ابتداء کرے۔اسی سلسلہ میں میں جماعت کے لوگوں کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو عاقبت بینی سے خالی ہو۔مثلاً قادیان میں ہی حال میں ایک جلسہ ہوا اس کے ریزولیوشنوں میں بلاوجہ ایسے افسروں کے نام لے لئے گئے جن کے نام لینے نہیں چاہیے تھے۔جماعت کا صرف اتنا کام ہے کہ جو مرکز کی طرف سے نام ظاہر کئے جائیں، وہ لے اور جن کا نام مرکز سے ظاہر نہ کیا جائے اسے نہ لے۔اب میں اعلان کردہ سکیم کے متعلق چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔پہلی بات جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں، وہ اس سکیم کی اہمیت کے متعلق ہے۔یہ بات میں کئی دفعہ بیان کرچکا ہوں کہ احرار کا فتنہ کوئی بڑا فتنہ نہیں، ان کے جلسہ کے بعد بھی میں یہ نہیں کہتا کہ ان کا فتنہ کوئی غیر معمولی فتنہ ہے مگر جب میں کہتا ہوں کہ یہ فتنہ کوئی بڑا فتنہ نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں فتنے ہوتا کہ یہ اپنی ذات میں کوئی بڑا فتنہ نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس سے بڑے بڑے جماعت کے سامنے آنے والے ہیں۔ممکن ہے بعض لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہو کہ ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ یہ فتنہ کوئی بڑا فتنہ نہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ اس فتنہ کے استیصال کیلئے ہمیں ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہنا چاہیے۔اگر یہ بڑا فتنہ نہیں تو اس کیلئے اتنی