خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 387

خطبات محمود ۳۸۷ سال ۱۹۳۴ء میں دست اندازی کرتی ہے۔پس انگریزوں کے اخلاق روسی اور فرانسیسی افسروں سے بہت زیادہ اچھے ہیں۔گو میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہندوستانیوں کے اخلاق سے روسیوں اور فرانسیسیوں کے اخلاق اچھے ہیں۔ہمارے ہندوستانی تو اخلاق کو بھون کر کھاگئے ہیں اور جب بھی انہیں کسی سے مخالفت ہو، وہ اس کا تختہ الٹنے کی دھمکی دینے سے نیچے نہیں رہتے۔ان کی مثال بالکل ان فقیروں کی سی ہوگئی ہے جو کہتے ہیں۔پیسہ دو اور اگر نہ دیں تو کہتے ہیں " اُلٹاواں چوداں طبق"۔غرض یہ فقیر بن گئے ہیں۔اخلاق کھو بیٹھے ہیں اور سوائے تختہ الٹنے کے اور کوئی کام نہیں جانتے۔میں نے گزشتہ خطبات کو جو لمبا کیا تو اسی وجہ سے کہ میں سمجھتا ہوں اگر حکومت سے ہماری صلح ہو جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا بہ نسبت اس کے کہ ہمیں کوئی اور طریق عمل تجویز کرنا پڑے۔ورنہ سکیم تو میں ابتداء میں ہی بتا سکتا تھا۔پھر بعض ایسے نقصانات کے خدشہ نے بھی مجھے اب تک سکیم کے بیان کرنے سے روکا ہوا ہے جو ممکن ہے مسلمانوں اور سلسلہ کیلئے کسی پہلو سے مضر ہوں۔میں جانتا ہوں کہ گو ہماری جماعت تھوڑی ہے مگر خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو علم اور فہم عطا کیا ہوا ہے۔ہم اگر ایک دو قدم اس طرف چلیں گے تو دوسرے مسلمان چند دن مخالفانه شور مچا کر ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور پھر اگر ہم ایک قدم چلیں گے تو وہ دس قدم چلیں گے اور بالکل تحریک کشمیر کی سی حالت ہو جائے گی۔کشمیر میں نہایت عمدگی سے کام ہو رہا تھا احرار نے جونہی دیکھا کہ ہمیں کامیابی ہو رہی ہے فوراً درمیان میں آگودے اور اعلان کردیا کہ کشمیر میں جتنے لے کر چلو۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں انہوں نے بہت کچھ فائدہ اٹھایا اور یقیناً اگر میری طرف سے سارے ہندوستان میں تنظیم نہ ہوئی ہوتی تو کبھی اتنے آدمی اکٹھے نہ کر سکتے۔اسی احرار کانفرنس کے موقع پر دیکھ لو انہوں نے اعلان کیا کہ ساٹھ ہزار بلکہ ایک لاکھ فرزندانِ توحید جمع ہوں گے۔مگر ان کے جس قدر آدمی آئے ان کے متعلق ریل والوں کا اندازہ ہے کہ اڑھائی تین ہزار تھے باقی ستاون ہزار آدمی کہاں گیا حالانکہ اتنی دیر سے شور مچا رکھا تھا اور کوشش بھی بہت کی گئی تھی۔لیکن تحریک کشمیر کے پر چونکہ میری وجہ سے تمام ہندوستان میں جوش پیدا ہو چکا تھا، اس لئے ستائیس ہزار کے قریب آدمی جیل خانوں میں چلے گئے اور جتنے بھی دور دور سے آئے۔اس سے سے پہلے نہرورپورٹ کے موقع پر بھی گو یہ درمیان میں آئے مگر انہیں ناکامی ہوئی۔پس گزشتہ واقعات موقع