خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 370

خطبات محمود ٣٧٠ سال ۱۹۳۴ء۔ہو سکتی۔پس کامل مومن کی یہ علامت ہے کہ وہ کامل طور پر اپنے بھائیوں سے متحد ہوتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ لڑائی اور جنگ کے موقع پر اس کے اندر کوئی رخنہ اور سوراخ نہیں ہوتا۔آج ایک طرف احراری ہماری جماعت کے مخالف ہیں، دوسری طرف جو احراری نہیں و بھی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں، سکھ اور ہندو بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔وہ پس جبکہ مختلف مذاہب ہماری مخالفت میں متحد ہو رہے ہیں تو میں اپنی جماعت میں یہ نمونہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ بُنیان مرصوص ہو۔کچھ عرصہ گزرا غالبا سال یا دو سال ہوئے کہ میں نے ایک خطبہ میں بتلایا تھا کہ تمہاری آپس کی رنجشیں اور لڑائیاں خلاف اسلام ہیں۔تمہارا فرض ہے کہ تم جاؤ اور ان لوگوں سے بغلگیر ہو جاؤ جن سے تم ناراض ہو بلکہ جو شخص معافی سمجھتا ہے کہ وہ مظلوم ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ پہلے جائے اور اپنے ظالم بھائی سے طلب کرے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو صلح کے لئے ابتداء کرتا ہے، وہ جنت میں پانچ سو سال پہلے داخل ہوتا ہے ہے۔پس کتنی غفلت ہوگی اگر ایک شخص مظلوم بھی ہو۔اور ظالم اس سے پہلے معافی مانگ کر جنت میں پانچ سو سال پہلے چلا جائے گا۔پس مظلوم کا فرض ہے کہ وہ جائے اور صلح کرے۔اور در حقیقت اُسی وقت تم امن کی حالت میں سمجھے جاسکتے ہو جب تمہارے اندر کوئی شگاف اور تفرقہ نہ ہو۔آج وہ دن ہے کہ حکومت بھی تمہارے خلاف ہے اور رعایا بھی تمہیں تباہ کرنا چاہتی ہے اگر ان جنگ کے ایام میں بھی کوئی شگاف یا رخنہ تمہارے اندر ہے تو تم اپنی فتح کی منزل کو دور کرتے ہو۔، پس میرا دوسرا حکم یہ ہے کہ اس ہفتہ کے اندر اندر ہر وہ شخص جس کی کسی سے لڑائی ہو چکی ہے، ہر وہ شخص جس کی کسی سے بول چال بند ہے، وہ جائے اور اپنے بھائی سے معافی مانگ کر صلح کرلے اور کوئی معاف نہیں کرتا تو اس سے لجاجت اور انکسار کے ساتھ معافی طلب کرے اور ہر قسم کا تذلل اس کے آگے اختیار کرے تاکہ اس کے دل میں رحم پیدا ہو اور وہ رنجش کو اپنے دل سے نکال دے اور ایسا ہو کہ جس وقت میں دوسرا اعلان کرنے کے لئے کھڑا ہوں، اس وقت کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں جن کی آپس میں بول چال بند ہو۔پس جاؤ اور اپنے دلوں کو صاف کرو جاؤ اور اپنے بھائیوں سے معافی طلب کر کے متحد ہو جاؤ جاؤ اور ہر تفرقہ اور شقاق کو اپنے اندر سے دور کر دو تب خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہاری مدد کے لئے اُتریں گے۔آسمانی فوجیں تمہارے دشمنوں سے لڑنے کے لئے نازل ہوں گی اور تمہارا دشمن۔