خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 371

خطبات محمود سال ۶۱۹۳۴ خدا کا دشمن سمجھا جائے گا۔یہ دو نمونے ہیں جو میں اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔جس شخص کو یہ خطبہ پہنچے وہ اس وقت تک سوئے پہنچے وہ اس وقت تک سوئے نہیں جب تک کہ اس حکم پر عمل نہ کرلے سوائے اس کے کہ اس کے لئے ایسا کرنا ناممکن ہو۔مثلاً جس شخص سے لڑائی ہوئی ہو وہ گھر میں موجود نہ ہو یا اسے تلاش کے باوجود مل نہ سکا ہو یا کسی دوسرے گاؤں یا شہر میں گیا ہوا ہو۔جماعتوں کے سیکرٹریوں کو چاہیے کہ وہ میرے اس خطبہ کے پہنچنے کے بعد اپنی اپنی جماعتوں کو اکٹھا کریں اور انہیں کہیں کہ (خلیفہ ایج) کا حکم ہے کہ آج وہی شخص اس جنگ میں شامل ہوگا جو اپنے بقالیوں کو بے باق کر کے آئندہ کے لئے چندوں کی ادائیگی میں باقاعدگی اختیار کرے گا۔پھر اس کے بعد انہیں دوسرا حکم پہنچائیں کہ (خلیفہ المسیح) کا حکم ہے کہ آج وہی اس جنگ میں شامل ہو سکے گا جس کی اپنے کسی بھائی سے رنجش اور لڑائی نہ ہو اور جو صلح کر کے اپنے بھائی سے متحد ہو چکا ہو اور جب میں قربانی کے لئے لوگوں کا انتخاب کروں گا تو میں ہر ایک شخص سے پوچھ لوں گا کہ کیا تمہارے دل میں کسی سے رنجش یا بغض تو نہیں اور اگر مجھے معلوم ہوا کہ اس کے دل میں کسی شخص کے متعلق کینہ اور بغض موجود ہے تو میں اس سے کہوں گا کہ تم بُنْيَانِ مَرْصُوص نہیں تمہارا کندھا اپنے بھائی کے کندھے سے ملا ہوا نہیں۔بالکل ممکن ہے کہ تمہارے کندھے سے دشمن ہم پر حملہ کردے پس جاؤ مجھ کو تمہاری ضرورت نہیں۔یہ دو کام ہیں جن کا پورا کرنا میں قادیان والوں کے ذمہ اگلے خطبے تک اور باہر کی جماعتوں کے ذمہ اس خطبہ کے چھپ کر پہنچنے کے ایک ہفتہ بعد تک فرض مقرر کرتا ہوں۔اس کے بعد میں تم میں سے ہر شخص مطالبہ کروں گا کہ تم نے جس شخص کے ہاتھ ے یہ میں اپنا ہاتھ دے کر یہ اقرار کیا ہے کہ تم اپنی جانیں اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی وجاہت سب کچھ اس پر قربان کر دو گے وہ تم سے قربانی کا مطالبہ کرتا ہے، وہ تمہاری جانیں اور تمہارے مال تم سے مانگتا ہے، تمہارا فرض ہے کہ تم آگے بڑھو اور اپنے عہد کو پورا کرو۔دیکھو میں نے اس حدیث کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ شخص جو اپنے بھائی سے صلح کرتا ہے، اپنے بھائی سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوتا ہے۔جنت میں داخلہ تو نہ معلوم کس رنگ میں ہوگا اللہ تعالی ہی اس کو بہتر جانتا ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرِه یعنی جنت کی حقیقت اور اس کی نعمتیں ایسی ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں ، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل میں بھی ان کا