خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 369

خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۴ تو پھر خواہ کچھ ہو اسے آخر تک نباہتا ہے۔پس یاد رکھو کہ استقلال اصل چیز ہے اور استقلال کے یہ معنی ہیں کہ قربانیوں پر مداومت اختیار کی جائے مگر جو شخص چھوٹی قربانی نہیں کرتا اس سے کب یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ آئندہ کی بڑی قربانیوں کو پورا کر سکے گا۔پس میں جماعتوں اور افراد جماعت کی ان تاروں اور خطوط پر اعتماد کرتے ہوئے جن میں انہوں نے سلسلہ کے لئے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کرنے کا وعدہ کیا ہے کہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کے چندوں میں کوئی نہ کوئی بقایا ہے یا ہر وہ جماعت جس کے چندوں میں بقائے ہیں وہ فوراً اپنے اپنے بقائے پورے کرے اور آئندہ کے لئے چندوں کی ادائیگی میں باقاعدگی کا نمونہ دکھلائیں۔جماعتیں میرے اس حکم کے مطابق اپنے اپنے بقانوں کو ادا کرتے ہوئے آئندہ کے لئے چندوں میں باقاعدگی اختیار کریں گی میں سمجھوں گا کہ انہوں نے اپنے اقرار کو پورا کیا اور آئندہ کی جدوجہد میں ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گی تو ان کا اقرار قابل اعتبار نہیں سمجھا جائے گا۔دوسرا مطالبہ میں اپنی جماعت سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے جنگ ہو رہی ہو اس وقت بغیر اس کے کہ بُنیان مرصوص ہو کر لڑائی کی جائے کامیابی نہیں ہو سکتی۔گویا فتح کی یہ علامت خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں مومن پہلو بہ پہلو کھڑے ہوں اور ایک ایسی دیوار کی طرح ہوں جس پر سیسہ پگھلا کر ڈالا گیا۔ہو، کوئی ایسا شگاف نہ ہو جو نظر آسکے اور کوئی سوراخ ایسا نہ ہو جو دکھائی دے سکے۔یہ فاتح کی علامت ہے جو خدا تعالیٰ نے بتائی ہے۔اس کے مطابق ہماری جماعت میں جب تک وہ اتفاق واتحاد پیدا نہ ہو جو فتح کی ضمانت ہوتا ہے، اس وقت تک میں کس طرح اعتبار کر سکتا ہوں کہ آپ لوگ اس لڑائی میں جو ہمارے سامنے ہے، کوئی نمایاں کام کر سکیں گے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ جماعت کے بعض اچھے اچھے لوگ ذرا سی بات پر لڑ پڑتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم انجمن میں چندہ نہیں دیں گے بلکہ براہ راست بھیجیں گے۔میں انہیں منافق کہتا وہ مخلص ہوتے ہیں کیونکہ خدمات سے گریز نہیں کرتے مگر باوجود اس کے ذرا سی بات پر آپس میں تفرقہ پیدا کرلیتے ہیں حالانکہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک ر شخص کا کندھا دوسرے شخص کے کندھے سے ملا ہوا نہ ہو اور وہ ایک ایسی دیوار کی طرح نہ ہوں جس میں سیسہ پگھلایا گیا ہو، اس وقت تک دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی نہیں نہیں ہو