خطبات محمود (جلد 15) — Page 351
خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۳۳ تو بارہواں واقعہ یہ ہے کہ جلسہ احرار کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور ہر چو وال اُترے ہوئے تھے۔وہاں انہوں نے جماعت کے چند افراد کو بلوایا اور گفتگو میں جب میرا ذکر کرتے تو دی مرزا دی مرزا ( THE MIRZA) کہہ کر ذکر کرتے۔اس پر ہماری جماعت کے ایک سیکرٹری نے چند بار سننے کے بعد ان سے کہا کہ صاحب آپ ہندوستانی ہیں اگر آپ انگریز ہوتے تو آپ کو معذور سمجھا جاسکتا تھا۔آپ کو معلوم ہے کہ ہم ان کو اپنا امام اور خلیفہ مانتے ہیں اور آپ کے ان کو صرف مرزا کہنے سے بڑا دکھ محسوس کرتے ہیں۔خانصاحب فرزند علی صاحب، میاں شریف احمد صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب حلفیہ بیان دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اس کے جواب میں کہا۔میں اس کے متعلق آپ لوگوں کو کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا آپ نے جو کچھ کہنا ہے کمشنر صاحب سے کہیں۔جس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہ ہو سکتا تھا کہ کمشنر صاحب نے انہیں اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہماری اور ہمارے سلسلہ کی ہتک کریں۔ڈپٹی کمشنر صاحب کے متعلق ایک اور موقع پر بھی دیکھا گیا ہے کہ جب وہ ہماری جماعت کے ذمہ دار افسروں سے ملنا چاہتے تو کہتے میں نے فرزند علی سے ملتا ہے شریف احمد سے ملنا ہے اخلاق کا برتاؤ کسی قانون کے ماتحت نہیں ہوتا۔کون سا قانون ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ڈپٹی کمشنر کو مسٹر کہا کریں۔ہمارے ہندوستانی ہمیشہ بات کرتے وقت صاحب یا جناب کہنے کے عادی ہیں۔پس اگر ان احساسات کو مد نظر نہ رکھا گیا اور یہ کھیل کھیلنی شروع کردی گئی تو ہماری جماعت سے بھی وہ توقع نہیں رکھ سکیں گے کہ ہم آداب کے ساتھ ان کا نام لیا کریں۔اس صورت میں بالکل ممکن ہے کہ ہم اگر کوئی مرہٹہ ہو تو اس کو کہہ دیں او مرہٹے اور پنڈت ہو تو او پنڈت یا لالہ ہو تو او لالے کہہ دیں۔پس اگر وہ ہمارے جذبات کے ساتھ کھیل سکتے ہیں تو ہم بھی انہیں پنڈت اور لالہ کہہ سکتے ہیں لیکن یہ کھیل اگر کھیلا گیا تو بڑا گندہ کھیل ہو گا اور اخلاق سے سخت گری ہوئی بات ہوگی اور اس کے نتائج ایسے خطرناک نکلیں گے کہ نہ صرف لوگوں کے اخلاق بگڑیں گے بلکہ گورنمنٹ کا نظام بھی اس سے خراب ہو گا۔تیرھواں واقعہ یہ ہے کہ یہاں پر ایک احمدی کانسٹبل متعین ہوا مگر چند ہی دنوں بعد اسے یہاں سے بدل دیا گیا۔احراریوں کے ہم مذہب کانسٹبل یہاں ڈیڑھ ڈیڑھ سال سے کام کر رہے ہیں مگر انہیں تبدیل نہیں کیا جاتا۔اول تو قادیان ہماری جماعت کا مرکز ہے اور چونکہ