خطبات محمود (جلد 15) — Page 352
خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۴ اس میں ہماری جماعت کی کثرت ہے اور ہماری وجہ سے ہی قادیان کو ترقی حاصل ہو رہی ہے اس لئے ہم یہ مطالبہ کر سکتے تھے کہ جیسے ننکانہ صاحب میں سکھوں سے وعدہ کر لیا گیا ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک سکھ تھانیدار رہا کرے گا اسی طرح ہمارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے۔ہمیں ننکانہ صاحب میں مستقل طور پر سکھ تھانیدار کے مقرر ہونے پر کوئی رنج نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں چشم ما روشن دل ماشاد لیکن جس طرح ننکانہ صاحب سکھوں کا ایک مقدس مقام ہے اسی طرح ہمارا بھی یہ مقدس مقام ہے اور جس طرح وہاں کثرت سے سکھوں کی جائدادیں ہیں، اسی طرح یہاں بھی ہماری جماعت کی کثرت سے جائدادیں ہیں غرض وہ ساری باتیں جو ننکانہ صاحب میں سکھوں کو حاصل ہیں، وہ احمدی افراد کو قادیان میں حاصل ہیں۔پس یہاں کم از کم پولیس کا ایک حصہ مستقل طور پر احمدی ہونا چاہیئے تھا مگر لطیفہ یہ ہے کہ ایک کانسٹیل آیا اور اسے بھی فوراً تبدیل کر دیا گیا جو صاف بتاتا ہے کہ احمدیہ جماعت پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔چودھواں واقعہ یہ ہے کہ اس جلسہ احرار کے موقع پر ایک تھانیدار نے رپورٹ کی کہ احمدی اپنا لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ہم نے اپنی جماعت کو حکام کی خواہش پر ہدایت کردی تھی کہ احرار کو جاکر لٹریچر نہ دیا جائے۔پھر اس کے بعد یہ خیال کرتے ہوئے کہ چونکہ محلوں میں سے احراری گزرتے ہیں اس لئے اگر انہیں لڑیچر دیا گیا تو ممکن ہے کہ اس سے بھی کوئی فتنہ کا دروازہ کھل جائے اس لئے محلوں میں بھی لڑیچر تقسیم کرنا منع کردیا گیا تھا۔مگر احراریوں کے دوستوں نے چونکہ فتنہ کھڑا کرنا تھا اس لئے انہوں نے شکایت کی کہ احمدیہ لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے اور اس کے ثبوت میں یہ بیان کیا گیا کہ ایک باوردی تھانیدار کو لٹریچر دیا گیا ہے۔اگر اسے درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو تھانیدار کو لٹریچر دینے سے احراریوں میں جوش کس طرح پھیل سکتا تھا جب تک کہ وہ خود در پردہ احراری نہ ہو۔میں ہرگز نہیں سمجھ سکتا کہ گورنمنٹ پنجاب کا بھی یہ منشاء ہو کہ ہم لٹریچر تقسیم نہ کریں کیونکہ ہم ایک تبلیغی جماعت ہیں اور ہمیں تبلیغی لٹریچر کی تقسیم سے کسی صورت میں نہیں روکا جاسکتا لیکن جب ان کی طرف سے کہا گیا کہ لڑیچر تقسیم کیا گیا ہے تو ہمارے آدمیوں نے کہا کہ ان لوگوں کو پیش کیجئے جن کو لٹریچر دیا گیا ہے۔اور جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس نے لٹریچر دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ سید احمد نور صاحب کاہلی نے لڑ یچر دیا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جاسکتا ہے۔پھر ممکن