خطبات محمود (جلد 15) — Page 350
خطبات محمود ۳۵۰ سال ۶۱۹۴۳۴ تصفیه متوازی حکومت کس طرح کہلا سکتا ہے۔آئندہ کیلئے حکومت یہ فیصلہ کردے کہ دیوانی مقدمات میں بھی سمجھوتے کرانے ناجائز ہیں اور معمولی چھیڑ چھاڑ اور معمولی مار پیٹ کے واقعات بھی ضرور گورنمنٹ کی عدالت میں لانے چاہئیں تو اس کے بعد ایک کیس بھی ہم سن جائیں تو وہ متوازی حکومت کا الزام ہم پر لگا سکتی ہے لیکن جب ایک طرف وہ مقدمات سننے کی ا اجازت دیتی ہے تو پھر دوسری طرف اس کا یہ الزام لگانا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔اور لوگوں کو یہ الزام لگانے کا موقع ملتا ہے کہ حکومت اپنے اعلانات میں سچ سے کام نہیں لیتی۔سے گیارھواں واقعہ یہ ہے یہ ہے کہ کہا گیا ۱۹۳۳ء میں دریائے بیاس پر احمدیہ کور کے بعض نوجوان ٹرینگ کیلئے گئے اور انہوں نے وہاں پر رائفل شوٹنگ کیا اور یہ بات اتنے وثوق بیان کی گئی کہ جماعت احمدیہ کے ایک سیکرٹری سے حکومت پنجاب کے ایک ذمہ دار افسر نے اس کا ذکر جماعت کے متعلق شبہ کے طور پر کیا حالانکہ یہ بالکل جھوٹی رپورٹ اور بے بنیاد بات تھی۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان کے کسی کانسٹیبل نے یہ رپورٹ کی حالانکہ قادیان کے کانسٹیبل کا بیاس کے اس علاقہ سے جہاں ہمارے لوگ سیر کو جاتے ہیں کوئی تعلق میں وہاں کا تھانہ الگ ہے جو سری گوبند پورہ ہے۔اگر دریائے بیاس کے اس مقام پر راکفل شوٹنگ ہو تو تھانہ اتنا نزدیک ہے کہ وہاں اس کی آواز بھی پہنچ سکتی ہے، اس کے علاوہ پولیس کے آدمی گشت بھی لگاتے رہتے ہیں لیکن وہاں کی پولیس کو تو کچھ پتہ نہ لگا اور یہاں کی پولیس کے کانٹیبل نے جھٹ رپورٹ کر دی۔اس پر پولیس کے اعلیٰ افسروں نے مقامی سب انسپکٹر کردی۔کے ذریعہ تحقیقات کرائی اور سب پر تحقیقات کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ رپورٹ بالکل جھوٹی تھی اور وہ اس امر کو تسلیم کر گئے مگر گورنمنٹ کے ذمہ دار افسر ڈیڑھ دو سال کے بعد سلسلہ کے ایک ذمہ دار افسر سے شکایت کرتے ہیں کہ تمہاری طرف سے دریائے بیاس پر رائفل شوٹنگ کیا گیا گو ایک اور اعلیٰ سرکاری افسر نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ اس واقعہ کی تردید ہو چکی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ درمیانی افسروں نے یہ کیوں کہا اگر تردید ہو چکی تھی تو انہوں نے تردید کے باوجود اسے کیوں دہرایا اور اگر انہیں علم نہ تھا تو اس انہیں کیوں نہ دیا گیا، پھر اس سپاہی کو کیوں سزا نہ دی گئی جس نے بلاوجہ ہماری جماعت پر یہ بهستان باندھا مگر اتنا بڑا اتمام سننے کے باوجود گورنمنٹ کے افسر اسے پچکار کر چلے گئے۔کا