خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 349

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۳۴۹ سازشیں ہو رہی ہیں اور متوازی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں۔مگر کیا یہ درست ہو گا پھر با امن شہریوں پر ایسے الزام لگانے سے یقیناً حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی بلکہ کمزور ہوتی ہے اور لوگوں کا حکومت پر سے اعتبار اٹھتا ہے۔دوسرا ثبوت أن صاحب نے ہماری متوازی حکومت کا یہ دیا کہ تم مقدمات کے تصفیہ کیلئے لوگوں کو بلاتے وقت سمن جاری کرتے ہو اور مدعی اور مدعاعلیہ کے الفاظ لکھتے ہو حالانکہ سمن کے معنی بلانے کے ہیں اور مدعی اور مدعا علیہ ہماری عربی زبان کے ر ہیں جو مسلمانوں کو ہی سے لئے گئے ہیں ہماری شریعت میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔پھر کیا اب ہماری اپنی شریعت کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی ہمیں روکا جائے گا۔کوئی غور کرکے بتائے کہ مدعی اور مدعا علیہ کے الفاظ لکھنے سے ہم متوازی حکومت قائم کرنے والے کس طرح بن گئے؟ جو سمن جاری کرنے کا الزام ہم پر لگایا گیا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اول تو یہ لفظ ہی ہمارے ہاں استعمال نہیں ہوتا۔صرف غلطی سے چند کاغذات میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ ہماری قضاء کے محکمہ میں ہرگز یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں طریق یہ ہے کہ سادہ چٹھی لکھی جاتی ہے اور جسے بلانا ہو اسے بلالیا جاتا ہے۔خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب انگریزی نوکری کرتے ہوئے آئے ہیں انہوں نے بعض مواقع پر غالبا سمن کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن وہ محکمہ قضاء میں نہیں بلکہ امور عامہ میں کام کرتے ہیں۔جس طرح کہتے ہیں کہ کوئی نیا نیا مسلمان ہوا تھا جب لوگ کسی بات پر خوش ہوتے تو وہ سُبْحَانَ اللهِ کہتے مگر وہ رام رام کہنا شروع کر دیتا۔اس سے جب پوچھا گیا کہ رام رام کیوں کہتے ہو تم تو مسلمان ہو۔تو اس نے کہا اللہ اللہ گھتے ہی گھے گا او رام رام نکلتے ہی نکلے گا۔خانصاحب نے ساری عمر انگریزی نوکری کی انہوں نے اگر سمن کا لفظ استعمال کرلیا تو یہ کوئی الزام کی بات نہیں تھی۔خصوصاً جبکہ سمن کے معنے بلانے کے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے ہاں سمن کا لفظ نہیں ہوتا۔پھر مدعی اور مدعا علیہ کے الفاظ ہماری اپنی زبان کے ہیں اگر ہم اپنی بولی نہ بولیں تو اور کیا کریں۔پس ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنی زبان کے چند الفاظ استعمال کئے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہم لوگوں کے مقدمات سنتے ہیں مگر ان کی مرضی سے کوئی مار کر انہیں اپنی جماعت میں شامل نہیں کرتا۔پس جب وہ اپنی مرضی سے ہمارے سامنے مقدمات پیش کرتے ہیں اور ایسے مقدمات جن کے پرائیویٹ تصفیہ کی حکومت نے اجازت دے رکھی ہے تو ان کا۔