خطبات محمود (جلد 15) — Page 334
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء بعد یہ اسی عرصہ میں پولیس والوں نے معا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس جو اس وقت قادیان میں ہی تھے، اپنا آدمی دوڑایا کہ احمدی حملہ کر کے آگئے ہیں، آپ جلد آئیں۔گویا احمدی مبلغ کا رقعہ احمدیوں کا حملہ بن گیا۔مجھ سے خود ایک ذمہ دار پولیس کے اعلیٰ افسر نے بیان کیا کہ آپ کی جماعت نے سخت نا معقولیت کی کیونکہ اس موقع پر کہ احرار کے لوگ کثرت سے آئے ہوئے تھے اور ہندوؤں اور سکھوں میں بھی آپ کے خلاف جوش ہے اگر فساد ہو جاتا تو نہ معلوم کیا ہو جاتا۔ایسے مواقع پر مکان جلا دیئے جاتے اور محلے تباہ کر دیئے جاتے ہیں۔خیر اس واقعہ کے مشغلہ حکام کے ہاتھ آگیا اور اس پر کارروائی شروع ہو گئی اور آدمی پر آدمی آنا شروع ہو گیا کہ یہ کیا غضب ہو گیا۔ہم نے انہیں کہا کہ آپ کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ احمدیوں کو اس جلسہ میں جانے سے روکا جائے پھر کون سا طریق تھا جو ہم انہیں روکنے کیلئے اختیار کرتے۔پندرہ ہزار میں سے بیشک کافی حصہ اس دن واپس چلا گیا تھا مگر رمضان المبارک کی وجہ سے اور کچھ میری ملاقات کی وجہ سے پانچ چھ ہزار سے زائد مہمان ابھی یہاں موجود تھا، سات ہزار کے قریب قادیان کے احمدی تھے، ان دس بارہ ہزار آدمیوں کو روکنے کی آخر کیا تدبیر اختیار کی جاتی۔پھر آپ نے خود کہا تھا کہ احمدیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی وہاں نہ گیا پھر اس میں فساد کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔مگر ان دلائل کی کوئی شنوائی نہ ہوئی اور یہی کہا گیا کہ اگر فساد ہو جاتا تو کئی خون ہو جاتے، ہزاروں آدمی جیل میں چلے جاتے اور مکانات جل جاتے، وہاں تین ہزار آدمی جن میں ہندو اور سکھ بھی تھے جمع تھے جو سب آپ کے مخالف تھے اور فساد کا سخت خطرہ تھا۔حالانکہ تین ہزار آدمی اس مسجد میں بھی جس میں میں خطبہ پڑھ رہا ہوں، سما نہیں سکتا اور وہ مسجد تو جہاں جلسہ ہو رہا تھا نہایت چھوٹی سی ہے اور ایک ہزار آدمی بھی اس میں نہیں آسکتا۔گورنمنٹ کے پاس جو رپورٹ کی گئی اس کے متعلق خود ایک اعلیٰ افسر نے مجھ سے بیان کیا کہ اس رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ احمدی وہاں گئے اور انہوں نے فساد برپا کرنا چاہا لیکن ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے وہاں جاکر فساد رفع دفع کیا۔جب میں نے کہا کہ میری رپورٹ یہ ہے کہ سوائے ان چند آدمیوں کے جن کو اس امر کیلئے مقرر کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو وہاں جانے سے منع کریں اور سوائے مبلغ اور اس کے دو تین ساتھیوں کے وہاں کوئی نہیں گیا اور نہ کوئی فساد ہوا۔تو اس افسر نے کہا کہ آخر اتنے بڑے افسر کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔میں نے اس کا یہی جواب دیا کہ