خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 335

خطبات محمود ۳۳۵ سال " بیشک انہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں مگر میں بھی اپنے آدمیوں کی سچائی کو جانتا ہوں اس لئے میں دوبارہ تحقیق کراؤں گا کہ یہ اختلاف کیونکر پیدا ہوا ہے۔چنانچہ میں نے دوبارہ تحقیق کرائی اور ناظر متعلقہ نے بعد تحقیق رپورٹ کی کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب کا اپنا ایک بھائی اس موقع پر قادیان میں اور ان کی مجلس میں موجود تھا اور معززین بھی وہاں موجود تھے ان سے گواہی لے لی جائے کہ جو واقعہ ہم بیان کرتے ہیں وہی درست ہے۔واقعہ صرف یہ ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب کے پاس ایک سپاہی آیا اور اس نے بیان کیا کہ فساد کا خطرہ ہے وہ کوٹ پہن کر گئے مگر ابھی احراریوں کے جلسہ گاہ میں نہ تھے کہ پھر ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اب ضرورت نہیں رہی، فساد کا اندیشہ نہیں ہے۔کچھ عرصہ ہوا یہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب مجھ سے ملے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور پوچھا کہ آپ نے ایسی رپورٹ کس طرح کی جبکہ آپ جلسہ پر نہ گئے اور نہ کسی فساد کو رفع کیا۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہ میں نے یہ رپورٹ کی اور نہ میں وہاں جلسہ پر گیا تھا جب یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تو میں کس طرح غلط رپورٹ کر سکتا تھا۔اب تعجب ہے کہ ایک ذمہ دار افسر تو میرے پاس آکر یہ بیان کرتا ہے کہ جماعت نے اتنی نا معقولیت کی کہ قریب تھا کہ وہاں خون ہو جاتے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ وہاں پہنچے تو انہوں نے فساد کو روکا مگر وہ صاحب کہتے ہیں کہ نہ کوئی فساد ہوا نہ میں وہاں گیا اور نہ میں نے ایسی کوئی رپورٹ کی۔اب بتاؤ کہ ان مشکلات میں ہم کیا کرسکتے ہیں۔پہلے واقعہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب، سپرنٹنڈنٹ پولیس اور مجسٹریٹ کی تکذیب کرتے ہیں اس واقعہ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب سپرنٹنڈنٹ صاحب کی تکذیب کرتے ہیں لیکن ہر غلطی کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔جس سے ہم تو یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے ساتھ فریب کیا جا رہا تھا، دھوکا کیا جارہا تھا، کوئی نہ کوئی افسر ایسا حکومت پنجاب میں تھا جو یہ سب کھیل ہمیں ستانے اور دق کرنے کیلئے کھیل تھا۔کیونکہ بڑے افسر سبھی ایک دوسرے کی تکذیب پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ واقعہ میں غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہو۔اب میں پھر اپنے مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے کہتا ہوں کہ اگر واقعہ ہی کوئی نہیں ہوا تو سرکاری افسروں نے ہم پر حرف گیری کیوں کی اور ہمیں ڈراوے اور دھمکیاں کیوں دی گئیں۔کیا ایسے حکام کے ماتحت کوئی امن سے رہ سکتا ہے جن میں سے ایک ذمہ دار افسر ایک دوسرے ذمہ دار افسر پر جھوٹ کا الزام لگا رہا ہو اور جو وفادار رعایا کو ناحق -۔