خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 333

خطبات محمود ۳۳۳ سال ۱۹۳۴ تو زمین کا ہے اور یہ ایک دیوانی سوال ہے نہ کہ فوجداری۔پس جب کہ تمام گلیاں ہماری اپنی زمین میں ہیں تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ ان افسروں سے پوچھے کہ تم نے کیوں اتنا روپیہ برباد کیا اور اس وفادار جماعت کو ناحق دق کیا مگر گورنمنٹ نے یہ رویہ اختیار نہ کیا اور نہ ہی ضرورت سمجھی کہ افسروں سے باز پرس کرے۔پس اس واقعہ سے بھی صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ ہمیں وق کرنے کی منظم کوشش کی جارہی تھی اور اس کارروائی کا ہمیں چھیڑنے کے سوا کوئی منشاء نہ تھا۔ورنہ کجا ڈسٹرکٹ بورڈ کی چند فٹ کی زمین کا جھگڑا اور کجا حکومت کی دھمکیاں اور فوجداریاں۔تیسرا واقعہ یہ ہے کہ ہمارے جلسہ سالانہ ۳۳ء پر احراری غیر احمدیوں نے بھی اپنا ایک جلسہ کیا۔۲۸- دسمبر کو ہمارا جلسہ ختم ہوا اور ۲۹ کو ان کا جلسہ ہوا۔اس کے متعلق جیسا کہ قاعدہ ہے گورنمنٹ کو فکر ہوا کہ کہیں کوئی فساد نہ ہو جائے۔چنانچہ مجسٹریٹ صاحب علاقہ آئے اور ناظر صاحب امور عامہ سے خواہش کی کہ آپ اپنے آدمیوں کو وہاں جانے سے روک دیں۔ناظر صاحب نے وعدہ کیا کہ ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو روک دیں گے۔چونکہ ہمارے جلسہ میں پندرہ ہیں ہزار کے قریب آدمی باہر سے شامل ہوتے ہیں اور چھ سات ہزار کے قریب قادیان کے رہنے والے ہیں اور اتنے آدمیوں کو حکم سے آگاہ کرنا اور ان سے تعمیل کروانا بہت مشکل کام ہے اس لئے محکمہ کی طرف سے علاوہ لوگوں کو روکنے کے یہ تجویز بھی کی گئی کہ گلی کے دونوں طرف آدمی مقرر کر دیئے تاکہ جن احمدیوں کو وہ پہچانیں انہیں جلسہ میں نہ جانے دیں اور ایک آدمی کو مسجد کے سامنے کھڑا کردیا گیا تاکہ اگر کوئی بھول کر ابھی جائے تو اسے واپس کر دیا جائے۔یہ شخص مرکزی محکمہ کا ایک کلرک تھا جو زیادہ احمدیوں سے واقف تھا۔پس جو احمدی وہاں جاتا اسے وہ صاحب کہہ دیتے کہ یہاں جانے کی آپ کو ممانعت ہے۔اسی کام کے دوران میں اس دوست نے جو دروازہ پر مقرر تھے معلوم کیا کہ احراریوں کی طرف سے چیلنج دیا جا رہا ہے کہ فلاں بات کا جواب احمدی دیں اور اس پر انہوں نے ایک رقعہ ناظر دعوت کو لکھا کہ بہتر ہو کسی مبلغ کو بھیجوا دیا جائے۔اس پر ناظر صاحب دعوت و تبلیغ نے مولوی محمد سلیم صاحب کو جو ہونہار نوجوان، یونیورسٹی کے گریجویٹ اور جماعت کے ہوشیار مبلغوں میں سے ایک مبلغ ہیں، وہاں بھیج دیا۔جنہوں نے چیلنج کے جواب میں رقعہ لکھا کہ کیا ہم بول سکتے ہیں اور جواب نفی میں ملنے پر وہ امن اور خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے آئے۔