خطبات محمود (جلد 15) — Page 312
خطبات محمود Wit سال ۱۹۳۴ء سے بہت سے لوگ قادیان میں آگئے کہ امن سے خدا کا نام لے سکیں مگر پھر بھی ہم پر حملے کئے جاتے ہیں اور حکومت بھی ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ان کے آگے پھینکنا چاہتی ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ ہمارا قصور کیا ہے جو ہم پر اس قدر ظلم کئے جاتے ہیں؟ گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم بیشک صابر ہیں، متحمل ہیں مگر ہم بھی دل رکھتے ہیں اور ہمارے دل بھی درد کو محسوس کرتے ہیں اگر اس طرح بلاوجہ انہیں مجروح کیا جاتا رہا تو ان دلوں سے ایک آہ نکلے گی جو زمین و آسمان کو ہلا دے گی جس سے خدائے قہار کا عرش ہل جائے گا اور جب خدا تعالی کا عرش ہلتا ہے تو اس دنیا میں ناقابل برداشت عذاب آیا کرتے ہیں۔(الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء) له تاريخ الامم والملوك لابي جعفر محمد بن جرير الطبري الجزء الثالث صفحه ۲۴۸٬۲۴۷ دار الفکر بیروت لبنان ۱۹۸۷ء ه بخاری کتاب الاذان باب ما يحقن بالاذان من الدماء سے جھولی چک: خوشامدی که متی باب ۸ آیت ۲۰