خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 313

خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۴ء جماعت احمدیہ کے خلاف احراریوں کا فتنہ اور بعض سرکاری افسروں کا غیر منصفانہ رویہ فرموده ۲- نومبر ۱۹۳۴ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- گزشتہ دنوں مجھے انفلوئنزا کی شکایت رہی ہے اور پرسوں اور کل تک تو بخار کی شکایت اور شدید نزلہ اور کھانسی کی تکلیف تھی آج گو مجھے بخار معلوم نہیں ہوتا لیکن پھر بھی کھانسی اور نزلہ کی شکایت ہے جس کی وجہ سے نہ تو میں اونچا بول سکتا ہوں اور نہ ہی زیادہ دیر تک بول سکتا ہوں۔بالکل ممکن تھا کہ میری بیماری ہی اس بات پر مجھے مجبور کرتی کہ میں اپنے خطبہ کے بعض اہم حصوں کو آئندہ کیلئے ملتوی کر دوں لیکن اس دوران میں بعض ایسے دوستوں نے کہ جنہیں ہم سے بھی تعلق ہے اور حکومت سے بھی ان کے دوستانہ تعلقات ہیں، تحریک کی ہے کہ اس وقت تک میں اپنے خاص اعلان کو ملتوی رکھوں جب تک کہ ان غلط فہمیوں کو ڈور کرنے کی کوشش نہ کرلی جائے جو حکومت کے بعض لوگوں اور ہم میں پیدا ہو گئی ہیں۔اگر ہمیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہو تو ہم تو ایک مذہبی جماعت ہیں ہمارا ہمیشہ یہ طریق رہا ہے کہ ہم کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں اس لئے ان دوستوں کو میں یہ یقین دلا سکتا ہوں کہ اگر ہماری کسی بات میں غلطی یا غلط فہمی ثابت ہو تو ہم اس کے متعلق ہر وقت سزا لینے تیار ہیں اور معافی مانگنے کیلئے بھی۔معاملہ صرف حکومت کا ہے کہ آیا وہ بھی اپنی غلطی کو کرنے کو تیار ہے یا نہیں۔اگر ثابت ہو جائے کہ حکومت سے غلطی ہوئی ہے اور وہ اپنی