خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 311

خطبات محمود رویه۔سال ۱۹۳۴ انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے ہو جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے لیکن دوسری طرف حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے کہ تم مرزا محمود احمد سول نافرمانی کرنے والے ہو۔اور جب یہ واقعات کسی عظمند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کا صحیح نہیں۔میں نے یہ خطبہ جان بوجھ کر اس ہفتہ پر رکھا تھا کہ دیکھوں حکومت اس کا ازالہ کرتی ہے یا نہیں۔اس میں شک نہیں کہ اس نے دلداری کی کوشش کی ہے مگر گھرے زخم ظاہری مرہم سے شفاء نہیں پایا کرتے۔ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کر کے ملک میں امن قائم کر رکھا ہے اور ملک میں ایک ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرادیا ہے، ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں، ہمارے دل زخمی کردیئے گئے ہیں، ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا کسی سے کچھ نہیں مانگا مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ۔لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کیلئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں" سمجھے پس اے احمدی جماعت! جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنائے گا تمہارا فرض ہے کہ اپنے لئے خدا کے فضل سے آپ گھر بناؤ اس الہام میں یہی اشارہ ہے کہ یہ زمین اور آسمان تمہیں کانٹوں کی طرح کائیں گے آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روا رکھا جارہا ہے؟ کل پہرہ دینے والوں میں سے ایک خوش الحانی سے غالب کا شعر پڑھ رہا تھا کہ دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم کوئی ہمیں اُٹھائے کیوں حملہ میرے دل میں اس وقت خیال گزرا ہے کہ یہ ہمارے حسب حال ہے۔ہم کسی کے گھر پر آور نہیں ہوئے، حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی، رعایا سے اس کے اموال نہیں بلکہ اپنی مساجد ان کے حوالہ کردیں، اپنی بیش قیمت جائدادیں ان کو دے کر ہم میں