خطبات محمود (جلد 15) — Page 296
خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۳۴ء پرو وه شبہات تفصیل سے بیان کئے اور بعض واقعات کا بھی ذکر کیا اور میرا آخری فقرہ یہ تھا کہ ہم تو یہ اثر ہے کہ اس وقت اس علاقہ میں احرار کی حکومت ہے۔ان کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھا جاتا ہے اور ہمارے آدمیوں کے سچ کو بھی جھوٹ قرار دیا جاتا ہے آپ حکومت کو نیوٹرل بتاتے ہیں۔کاش وہ نیوٹرل ہوتی لیکن وہ تو احرار کی مدد کر رہی ہے اسے یا تو نیوٹرل رہنا چاہیے اور یا پھر ہمیں احراریوں کے رحم پر چھوڑ کر الگ ہو جانا چاہیئے۔یہ کیا طریق ہے کہ ایک طرف تو وہ ہمارے ہاتھ باندھتی ہے اور دوسری طرف ان کو سر پر چڑھاتی ہے اور ہمیں قانون میں جکڑ کر ان کے آگے پھینکتی ہے۔اگر وہ نیوٹرل نہیں رہ سکتی تو بیشک ان کے رحم پر ہمیں چھوڑ دے اور اگر احراری ہم سب کو بھی قتل کردیں گے تو ہم کبھی حکومت کا شکوہ نہیں کریں گے۔اس مسکرائے اور کہا کہ میں خود اس مضمون کی طرف آنا چاہتا تھا میں نے سنا ہے کہ آپ نے باہر سے کچھ آدمی بلوائے ہیں۔اور ایک ایسی تحریر ضلع میں مجھے دکھائی یا شاید کہا کہ بتائی گئی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ میں نے ایسی ہدایت آج بارہ بجے جاری کی ہے آپ تک سے پہنچ گئی۔میں نے میرزا شریف احمد صاحب سے کہا کہ آپ کے پاس میری ہدایت پہنچی ہے۔انہوں نے کہا ہاں پہنچی ہے۔میں نے کہا ابھی منگوائیں۔وہ ان کی جیب میں ہی تھی انہوں نے جھٹ نکال کر دکھادی۔اس پر تاریخ اور وصولی کا وقت درج تھا۔انہوں نے کہا کہ جب آپ کی طرف سے کوئی ایسی تحریر گئی نہیں تو محکام ضلع نے کس طرح کہا کہ ایسی کوئی تحریر باہر گئی ہے۔بہر حال انہوں نے کہا کہ اگر میں اپنے طور پر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی کمشنر سے مل کر پولیس کا کافی اور خاطر خواہ انتظام کرادوں تو کیا پھر بھی آپ کو باہر سے آدمی بلانے کی ضرورت ہوگی۔میں نے کہا یہاں کی مقامی پولیس کو تو میں احراریوں سے بھی بدتر سمجھتا ہوں۔ان لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اگر ہم میں سے کسی کو احراری قتل بھی کردیں تو یہ یہی کہیں گے کہ ان کے پچاس آدمی احرار پر حملہ آور ہوئے تھے اور انہوں نے خود حفاظتی کے طور پر قتل کر دیا ہے اور اس طرح ہمارے ہی آدمیوں کو گرفتار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر انگریز سپرنٹنڈنٹ ہر وقت یہاں رہے کیا پھر آپ کی تسلی ہو جائے گی۔میں نے ان سے کہا کہ ہان اگر انگریز افسر مقرر ہو جائیں تو پھر ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں انتظام کرانے کی کوشش کروں گا کہ انگریز افسر یہاں رہے اور اس کے ساتھ آپ کا ایک آدمی رہے۔آپ مرزا شریف احمد صاحب کو میرے ساتھ بھیج دیں۔میں D۔C اور S۔P سے بات