خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 295

خطبات محمود ۲۹۵ سال ۱۹۳۴ء دفعہ بعد میں بھی آئے ہیں اور لاہور میں بھی مجھ سے کئی دفعہ مل چکے ہیں۔ان کی طرف۔جب ملاقات کی خواہش کی گئی تو میں نے بڑی خوشی سے کہا کہ تشریف لے آئیں اور چونکہ میں نے سنا تھا کہ مجسٹریٹ علاقہ بھی ساتھ ہیں، میں نے ناظم صاحب کار خاص کو بھی بلوا بھیجا کہ کوئی بات ریکارڈ کے متعلق پیش ہو تو وہ بتا سکیں بلکہ میں نے مرزا شریف احمد صاحب کو کہلا بھیجا کہ وہ مرزا معراج الدین صاحب کو ساتھ لے آئیں۔خیر وہ آئے اور میں نے دریافت کیا کہ آپ کیسے آئے ہیں۔انہوں نے کہا میں سرکاری کام سے گورداسپور آیا تھا اور وہاں سے خیال آیا کہ قادیان بھی ہوتا جاؤں۔ان سے گفتگو شروع ہو گئی اور خود بخود ہی باتیں احراریوں کی شورش کے موضوع کی طرف آگئیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھ سے کس حیثیت سے گفتگو کر رہے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ سی- آئی ڈی کی حیثیت سے یا مرزا معراج الدین کی حیثیت سے انہوں نے یقین دلایا کہ نہیں میں تو ذاتی حیثیت سے ملنے کیلئے آیا ہوں۔پھر میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ جب گورداسپور میں آپ کا تعلق نہیں تو وہاں کیسے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ مرکز کو علاقہ کی فکر بہر حال ہوتی ہے اور میں دریافت حالات کیلئے آیا تھا۔پھر ان سے بے تکلفی سے گفتگو ہوتی رہی میں نے بھی وضاحت سے اپنے خیالات ان کے سامنے پیش کر دیئے اور وہ بھی دوستانہ رنگ میں مفید مشورے دیتے رہے کیونکہ وہ سی۔آئی ڈی کے پرانے افسر ہیں اور لمبا تجربہ رکھتے ہیں۔گفتگو کے دوران میں نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ حکومت کی طرف سے ہماری مخالفت کی جارہی ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ میں آپ کو اپنے تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملہ میں حکومت بالکل نیوٹرل ہے۔وہ قطعاً آپ کے خلاف نہیں اور نہ ہی احرار کے خلاف ہے۔گورداسپور کے حکام کے متعلق میں نہیں جانتا ان کے متعلق آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں لیکن اپنے فرائض منصبی کے لحاظ سے مجھے چونکہ ہر وقت پنجاب گورنمنٹ سے تعلق ہے، اس لئے میں اس کی نسبت آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ حکومت پنجاب کے صاف اور واضح احکام ہیں کہ اس جھگڑے میں ہرگز کسی فریق کی طرفداری نہیں کرنی چاہیے۔میں نے کہا کہ یہاں تو یہ نہیں ہو رہا بلکہ حکام کا ایک حصہ احرار کی طرفداری کر رہا ہے۔اس موقع پر پھر میں نے ہنس کر پوچھا کہ کیا آپ سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی ڈی کے طور پر تو گفتگو نہیں کر رہے۔انہوں نے پھر اس سے انکار کیا اور کہا کہ میں جیسا کہ بتا چکا ہوں، پرائیویٹ حیثیت میں بات چیت کر رہا ہوں۔اس پر میں نے مقامی حکام کے متعلق اپنے