خطبات محمود (جلد 15) — Page 297
خطبات محمود ۲۹۷ سال ۶۱۹۳۴ چیت کرلوں اور پھر اگر وہ اس تجویز کو منظور کرلیں تو آپ یہ حکم جاری نہ کریں۔میں نے مرزا شریف احمد صاحب کو ان کے ساتھ جانے کی ہدایت کردی اور یہ باتیں کر کے وہ چلے گئے۔شام کے وقت مجھے معلوم ہوا کہ مرزا شریف احمد صاحب کے مکان پر کوئی میٹنگ ہے جس میں وہ بھی شامل ہیں۔میں حیران ہوا کہ یہ کیا معالمہ ہے۔صبح میں نے فیروز پور جاتا تھا اس لئے سویرے ہی میں نے ان کو بلوا بھیجا کہ وہ کیوں مرزا معراج الدین صاحب کے ساتھ نہیں گئے۔انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کو دیر ہو گئی تھی۔(دراصل وہ میرے پاس سے ہی دیر سے گئے تھے۔اور میں نے عصر کی نماز پانچ بجے آکر پڑھائی تھی اس دیر ہو جانے کی وجہ سے وہ مجھے نہیں لے جاسکے۔وہ کہتے تھے کہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں آج شب میرا کھانا ہے۔اور انگریز جی کھانے میں عام طور پر دیر ہو جایا کرتی ہے۔گیارہ بارہ بجے اگر کھانے سے فارغ ہوئے تو اس وقت کیا باتیں ہوں گی۔میں خود ہی ان سے بات چیت کر کے آپ کو اطلاع کردوں گا اور جب آپ کو اطلاع آجائے کہ آپ کے حسب منشاء تسلی بخش انتظامات ہو گئے ہیں تو آپ باہر سے آدمی نہ بلائیں اور میاں شریف احمد صاحب نے مجھے یہ بتایا کہ مرزا معراج الدین صاحب کے جانے کے بعد ایک غلطی معلوم ہوئی اور وہ یہ کہ چوہدری فتح محمد صاحب نے جو عارضی طور پر ناظر امور عامہ تھے ضلع گورداسپور کی بعض جماعتوں کے ذمہ کچھ تعداد لگائی ہے کہ اتنے آدمی یہاں بھیج دیر دیں اور لاہور و امرتسر کی جماعتوں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر بلایا جائے تو وہ بھی آجائیں۔میں نے کہا کہ یہ تو بڑی غلطی ہوئی ہے۔ناظر امور عامہ کو چاہیے تھا کہ جب اس کام کو ان کے صیغہ سے علیحدہ کر کے اس کیلئے ایک علیحدہ افسر مقرر ہو چکا ہے تو وہ خود دخل نہ دیتے۔دراصل چونکہ یہ انتظام نیا تھا، چوہدری صاحب کو خیال نہ رہا کہ یہ کام اب امور عامہ سے متعلق نہیں ہے۔بہر حال میں نے کہا کہ مرزا معراج الدین صاحب کو اس غلطی کی فوراً اطلاع دی جائے تا وہ دوسرے افسروں کے سامنے جھوٹے نہ ٹھہریں اور ان کی خیر خواہی کا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کے سامنے غلط کو ثابت ہوں۔چنانچہ مرزا شریف احمد صاحب نے مجھے کہا کہ میں ابھی خاص آدمی بھیج کر ان کو اطلاع کر دیتا ہوں۔اس کے بعد میں فیروز پور چلا گیا اور اسی تاریخ کو خاص آدمی کے ذریعہ مرزا معراج الدین صاحب کو غلطی کی بھی اطلاع کر دی گئی اور یہ بھی لکھ دیا گیا کہ ان کے وعدہ کے مطابق انتظام ہو جانے پر اس سرکلر کو منسوخ کردیا جائے گا۔میرے بعد ڈپٹی کمشنر اور