خطبات محمود (جلد 15) — Page 229
خطبات محمود ۲۲۹ سال ۱۹۳۴ء جگہ بھر چکی تھی اور میرا خطبہ شروع تھا۔انجمن والوں نے بھی اس دن یہ کمال کیا کہ مسجد کے قریب کے دفاتر کے دروازے بند کردیئے۔اس خوف سے کہ ہجوم کی وجہ سے ان کا مکان ٹوٹ جائے گا۔جب میں خطبہ کے بعد گھر پہنچا تو میں نے دریافت کیا کہ تم نے میرا خطبہ سنا تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو جگہ ہی نہیں ملی اور مجبوراً واپس آنا پڑا۔میری ایک بیوی نے بتایا کہ وہ چند مہمان مستورات کے ساتھ مسجد میں گئیں ان میں سے ایک حاملہ بھی تھی۔عورتوں کو جب راستہ دینے کیلئے کہا گیا تو ایک عورت نے اس مہمان عورت کے جو حاملہ تھی کہنی ماری اور جب اسے کہا گیا کہ یہ دور سے آئی ہیں اور مہمان ہیں انہیں جگہ دے دینی چاہیے تو وہ غصہ سے کہنے لگی اسیں جانندی آں وڈی خبیثاں آئیاں ہین" ایک اور عورت نے میری ایک لڑکی کو اس زور سے مکہ مارا کہ اس کے نشان پڑ گیا۔اور آٹھ دس روز تک اس کا نشان قائم رہا۔یہ اس قسم کی بد اخلاقی ہے کہ حیرت آتی ہے حالانکہ قرآن مجید میں صراحتاً اہل بیت کا ذکر آتا ہے اور وہاں بتایا گیا ہے کہ اہلِ بیت کا زہرا حق ہے۔اگر وہ نیکی کریں گے تو انہیں دوسروں سے زیادہ ثواب ملے گا اور اگر وہ بدی کریں گے تو سزا بھی دوسروں سے زیادہ ملے گی۔پھر یہ قدرتی بات ہے کہ جب کسی شخص کے سپرد جماعت کی نگرانی کا کام ہو تو اس سے تعلق رکھنے والے کا اعزاز بھی ضروری ہوتا ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں اور عورتوں کو اسلامی آداب سے واقف کرائیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن اپنے گھر کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ وہ عورتوں کو بھی اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں اور اپنے عملی نمونہ سے کی رہبری کریں۔اگر قادیان کی بعض عورتیں اس قسم کا افسوسناک نمونہ پیش کر سکتی ہیں تو باہر کی عورتوں پر کیا الزام ہو سکتا ہے۔له الاحزاب: ۵۴ الفضل ۲۱- اگست ۱۹۳۴ء) سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفة المسیح الثالث (مرتب) ان سے مسلم كتاب الاشربة باب ما يفعل الضيف اذا تبعه غير من دعى صاحب الطعام که مسلم كتاب الزكوة باب اعطاء من يخاف على ايمانه