خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 228

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ تو اور زیادہ تعجب کی یہ بات ہے کہ انہوں نے نہ سمجھا کہ جو کام ناممکن ہے وہ ممکن کس طرح ہو سکتا ہے۔پس آئندہ کیلئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ ایک تو جب تک بچوں کو بلایا نہ جائے، انہیں ہمراہ نہ لایا جائے۔آخر کیا وجہ ہے کہ یہ سمجھ لیا جاتا ہے میں اکیلا ہی بچے کو لے جا رہا ہوں اور لوگ اپنے بچے ساتھ نہیں لائیں گے۔پھر کہیں بھی احادیث سے یہ ثابت نہیں کہ دعوتوں کے وقع پر بچے بھی بلائے جاتے تھے اور اگر اخلاص کی وجہ سے ہی اپنے بچے ہمراہ لائے تھے تو پھر وہی کر لینا تھا جو رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ کیا۔آپ نے دعوت کی تو دیکھا کہ لوگوں میں بہت جوش ہے اور وہ سب شامل ہونے کیلئے بے تاب ہیں۔آپ نے فرمایا جو آئے گھر سے کھانا لیتا آئے۔اگر یہاں یہی ہو جاتا تو کوئی دقت نہ ہوتی ہر شخص جو بن بلائے آتا اپنے گھر سے کھانا لے آتا اور سب مل کر کھالیتے۔اور مومنوں میں یہ کوئی شرم کی بات نہیں۔پس اس طرح تو ہم بھی کر سکتے تھے اور اگر یہ نہیں تو پھر تو یہی ہو سکتا ہے کہ چند آدمیوں کی دعوت کردی جائے اور انہیں کھانا کھلا دیا جائے۔رسول کریم کے زمانہ میں کبھی یہ شکایت نہیں سنی گئی کہ پچاس آدمیوں کو کیوں بلا لیا گیا۔مدینہ کے تمام افراد کو کیوں شامل نہیں کیا گیا۔میرا ارادہ تھا کہ عورتوں کی بھی اسی رنگ میں دعوت کی جاتی مگر پھر میں نے کہا کہ اگر عورتیں بھی اسی طرح آئیں تو پہلی غلطی دہرائی جائے گی۔اس لئے اپنی رشتہ دار عورتیں اور دیگر عورتوں کو بلا لیا گیا۔اس موقع پر عورتوں کے متعلق میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں کیونکہ مردوں پر ان کی ذمہ داری بھی ہے۔میرے بچوں کے نکاح کے موقع پر حرکات عورتوں سے ایسی ہوئیں جو نہایت ہی افسوسناک تھیں۔ممکن ہے اس کی غیر احمدی عورتیں ہوں کیونکہ وہ خطبات میں آجاتی ہیں مگر اس خیال سے کہ شاید احمدی عورتیں ہوں میں بیان کر دیتا ہوں۔نکاح کے موقع پر جو میں نے خطبہ پڑھا وہ اس قسم کا تھا کہ اس میں میں نے خصوصیت سے اپنے گھر کے لڑکوں اور مستورات وغیرہ کو مخاطب کیا تھا اور میری خواہش تھی کہ وہ اس خطبہ کو سنیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔مسجد میں آنے میں گھر میں یہ ہدایت کرکے آیا تھا کہ آج میں خطبہ میں تم سب کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں، جہ سے میرا خطبہ سننا۔جس گھر میں شادی ہو قدرتی طور پر بعض کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے دیر ہو جایا کرتی ہے۔میرے گھر سے مستورات اُس وقت پہنچیں چند اس لئے تو ا سے بعض پہلے جب