خطبات محمود (جلد 15) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ اور اگر کہوں کہ لوگ بن بلائے آگئے تو بھی مصیبت کیونکہ لوگوں کو حرف گیری کا موقع ملے ها چنین پس میری تو وہی حالت ہے جو کہتے ہیں کسی لڑکی کی سوتیلی ماں نے کتا پکا کر اس کے باپ کے سامنے رکھ دیا۔لڑکی گھبرائی ہوئی پھرتی اور کہتی بولوں تو ماں ماری جائے نہ بولوں تو باپ کتا کھائے۔اسی طرح میں اگر نہ بولوں تو لوگ کہیں گے عجیب کنجوس ہے، لوگوں کو بلایا مگر کھلایا نہیں اور اگر کھلا نہ سکتے تھے تو اتنے لوگوں کو بلایا کیوں تھا اور اگر بولوں تو جماعت کے حرف آتا ہے۔پس اس دعوت نے مجھے نہایت ہی مشکل میں ڈال دیا۔اگر کھانا کوئی ایسی چیز ہوتی جو دس پندرہ منٹ میں تیار ہو سکتی تو پھر تو خواہ کوئی بھی صورت ہوتی میں کھانا تیار کروا دیتا مگر اس کیلئے تو کافی وقت کی ضرورت تھی جو اس وقت ناممکن تھا۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں یہ امر سمجھنا چاہیے کہ جو امر ناممکن ہو اسے کس طرح کیا جاسکتا ہے۔اول تو ساری جماعت کو انتظامی لحاظ سے بلایا نہیں جاسکتا دوسرے مالی لحاظ سے بھی وقت ہوتی ہے۔پھر دفتر والوں کو بھی چاہیئے تھا کہ وہ ٹکٹ جاری کرتے۔یہ بھی غلطی ہوتی ہے کہ محلوں میں جب انتخاب کیا گیا تو خود بخود جس کا جی چاہا نام لے لیا گیا اور جس کا جی چاہا چھوڑ دیا گیا۔میرا خیال ہے آئندہ کیلئے ہماری دعوتوں میں جن کے متعلق لوگوں کو شکوہ پیدا ہو جایا کرتا انتظام ہونا چاہیے کہ محلہ وار لوگوں کی فہرستیں تیار رہیں۔جب دعوت کے موقع انتخاب کا وقت آئے تو جن لوگوں کو ایک دفعہ شامل کر لیا جائے دوسرے موقع پر انہیں شامل کیا جائے بلکہ اوروں کو شامل ہونے کا موقع دیا جائے تاکہ اس طرح مختلف دعوتوں میں آہستہ آہستہ تمام لوگ شامل ہو جائیں۔قرعہ کی تجویز مجھے اس لئے پسند نہیں کہ اس میں یہ وقت ہو سکتی ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص کا ہی نام بار بار نکلتا رہے اس لئے آئندہ یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ باری باری لوگوں کو دعوت میں شامل کیا جائے۔سوائے ایسے کارکنوں کے جن کا قریب رہنا ہر دعوت میں شرعی یا تمدنی طور پر ضروری ہوتا ہے۔بہر حال اس نظام میں رپر اصلاح کی ضرورت ہے اور عدم اصلاح کی وجہ سے ناگوار امور ظاہر ہوتے ہیں۔کل ہی ایک دوست کی بیوی والدہ صاحبہ کے پاس آکر روپڑی کہ کیا ہم احمدی نہیں تھے ہمیں کھانے میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ایک عورت کے لحاظ سے تو اس کے اخلاص پر مجھے خوشی ہوئی مگر یہ تعلیم یافتہ مرد ہیں، ان کے مونہوں سے بھی اگر ایسی ہی بات سنی جائے تو تعجب کی بات ہے