خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 226

خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۴ کے اس سے بہتر مواقع موجود ہیں۔مثلاً جمعہ کا موقع ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت جمعہ میں بہت کم بچے ہیں۔وہ دوست کیوں اپنے بچوں کو جمعہ میں نہیں لائے۔کیا دعوت، جمعہ سے زیادہ دینی کام تھا کہ وہاں تو بچوں کو لے گئے مگر یہاں نہیں لائے۔جمعہ سے زیادہ کوئی مقدم چیز نہیں۔میں نے حضرت خلیفہ اول سے بشدت و بتکرار سنا ہے کہ عیدین بھی جمعہ کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں، ہمارا مقدس دن جمعہ ہے۔اور گو مجھے اس کے متعلق ذاتی تحقیق کا موقع نہیں ملا مگر میں سمجھتا ہوں حقیقت یہی ہے کیونکہ جمعہ کا قرآن مجید میں ذکر آیا ہے مگر عیدین کا نہیں آیا۔پس جمعہ جیسے مذہبی فریضہ میں تو وہ بچے نظر نہیں آتے مگر دعوت میں نظر آگئے حالانکہ اگر ان کے مد نظر اپنے بچوں کو دین سکھانا تھا تو وہ یہاں لاتے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے بچپن میں ایک دوست کو میں نے دیکھا وہ بڑی حرص سے ریوڑیاں کھا رہے تھے۔طالب علمی کا زمانہ تھا وہ چھپ کر اور بڑی حرص سے اس لئے ریوڑیاں کھا رہے تھے کہ کوئی دوسرا ساتھی نہ آجائے۔میں نے انہیں دیکھا تو پوچھا اتنی حرص سے آپ ریوڑیاں کیوں کھا رہے ہیں۔بجائے اس کے کہ کوئی اور جواب دیتے کہنے لگے حضرت صاحب کی سنت ہے میں نے سنا ہے انہیں ریوڑیاں بہت پسند ہیں۔میں نے کہا حضرت صاحب تو کونین، ایسٹرن سیرپ اور دوسری تلخ اور یہ بھی استعمال کیا کرتے ہیں اگر سنت پر ہی عمل کرنا ہے تو وہ بھی پیو۔گو ریوڑیوں کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت یاد رہی اور تاریخ چیزوں کے متعلق خیال بھی نہ کیا۔اسی بچوں نقص طرح بچوں کو دعوت میں تو لے گئے مگر یہاں نہ لائے۔حالانکہ اصل دینی کام یہ ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے۔وہ اپنے بچوں کو ایسی جگہ تو لے جائیں گے جہاں میلہ ہو، تماشہ ہو، دعوت ہو مگر جمعہ کے دن نہیں لائیں گے اس لئے کہ کو گرمی میں آنے سے تکلیف ہوتی ہے۔غرض یہ بھی ایک نادانی تھی جس کا بعض دوستوں سے اظہار ہوا۔مگر ان سب سے زیادہ بُری چیز یہ تھی کہ انہوں نے میزبان کی ہتک کی۔آخر جب اتنی کثرت سے لوگ آجائیں گے اور انہیں کھانے کو نہیں ملے گا تو کیا اس میں میزبان کی عزت ہے۔لوگ یہی کہتے جا ئیں گے کہ ہمیں بلایا مگر کھلایا نہیں اور اگر میں یہ کہوں کہ لوگ بن بلائے آگئے تو یہ بھی کتنی بڑی بات ہے۔بوجہ امام ہونے کے اس کی شرم بھی تو مجھے ہی آئے گی۔پس میں اگر نہ بولوں تب بھی مصیبت کیونکہ لوگوں کی تربیت نہیں۔ہو