خطبات محمود (جلد 15) — Page 225
خطبات محمود ۲۲۵۰ سال ۶۱۹۳۴ ہمیں دعوت میں شاید اس لئے نہیں بلایا گیا کہ ہم مومن نہیں بلکہ انہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ بسا اوقات منافقوں کو شامل کر لیا جاتا اور مومنوں کو رہنے دیا جاتا ہے تا منافق بالکل ہی پھل نہ جائے۔اور پھر جب مجبوری ہو تو پھر مومنوں میں سے بھی انتخاب ہی کرنا پڑتا ہے۔گو میں سمجھتا ہوں ایسے لوگوں کو بھی اگر شکوہ پیدا ہو تو وہ قابل قدر ہے لیکن محبت والا شکوہ دور کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔پھر میں نے دیکھا کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی غفلت سے سمجھ لیا کہ ہمارا بچہ چھوٹا سا ہے، اگر یہ ولیمہ کی دعوت میں شریک ہو گیا تو ڈیڑھ ہزار کے قریب آدمیوں میں کیا حرج ہو گا اور اسی طرح ہر شخص جہاں خود آیا' وہاں اپنے بچوں کو ساتھ لا کر تعداد میں اس نے غیر معمولی اضافہ کر دیا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ دعوت میں پانچ چھ سو بچے شریک تھے حالانکہ عام طور پر بچوں کو ہم نے مدعو نہیں کیا تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض رشتہ داروں کے بچے مدعو تھے مگر ایسے مواقع پر رشتہ داروں سے قدرنا ممتاز سلوک کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ نادانی کی وجہ سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ دنیوی رشتہ سے دینی رشتہ بہر حال مقدم ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ دینی رشتہ کو ایک تقدم حاصل ہوتا ہے مگر جہاں دینی اور دنیاوی دونوں رشتے مل جائیں، وہاں بہر حال ان رشتہ داروں کو مقدم کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان میں دو وجوہ جمع ہو گئے دینی رشتہ داری بھی اور دنیاوی رشتہ داری بھی۔پس گو بعض رشتہ داروں کے بچوں کو بلایا گیا بعض جگہ کسی استاد کے بچوں کو شامل کر لیا گیا کیونکہ استاد باپ کی طرح ہوتا ہے۔یا بچوں کا استاد ہوا تو اس کے بچوں کا خیال رکھ لیا اور اس طرح انہیں دوسروں پر ترجیح دے دی۔مگر یہ ذاتی تعلقات کا حصہ بہت قلیل تھا۔اور اس میں چند بچے شامل تھے۔لیکن باقی تمام بچے ایسے تھے جنہیں بلایا نہیں گیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں تاریخوں پر غور کرنے سے کبھی معلوم نہیں ہوا کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ولیموں میں بچے بلائے جاتے ہوں۔یہ تو ایک دعا کی تحریک ہوتی ہے۔اور اس میں بڑی عمر کے لوگوں کا شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔مگر مجھے بتایا گیا کہ پانچ چھ سو کے قریب بچے دعوت میں شامل تھے۔میں سمجھتا ہوں ہر شخص نے یہ خیال کر لیا ہوگا کہ اگر ایک میرا بچہ چلا گیا تو کیا حرج ہو جائے گا۔دوسرے نے بھی یہی خیال کرلیا ہوگا کہ اگر ایک میرا بچہ چلا گیا تو کیا حرج ہو جائے گا اور اتنے بڑے ہجوم میں کیا پتہ لگے گا اور بعض شاید اس خیال سے لے گئے ہوں کہ یہ بھی ایک دینی کام ہے، بچوں میں جوش پیدا ہو گا۔یہ نیت اچھی ہے لیکن اس کے پورا کرنے