خطبات محمود (جلد 15) — Page 193
محمود ۱۹۳ سال ۱۹۳۴ء فائدہ جس کے نتیجہ میں بدی پیدا ہو۔میرے نزدیک ہمارے مدارس کے افسروں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ان کا فرض ہے کہ طلباء کو محنت کی عادت ڈالیں اور انہیں دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کا عادی بنائیں۔بچپن میں جب میں نے رسالہ تشحیذ جاری کیا تو ایک کارکن سے کچھ مال ضائع ہو گیا۔کمیٹی کے باقی ممبروں کی رائے تھی کہ اس نے عمداً چوری اور بد دیانتی کی ہے۔لیکن میرا خیال تھا کہ اس نے مجبوری کے ماتحت واپسی کی نیت سے رقم خرچ کرلی اور میں کہتا تھا ہمیں ایسا طریق اختیار کرنا چاہیے کہ وصول ہو جائے اور اسے سرزنش بھی ہو لیکن یہ چور کہلانے کا مستحق نہیں مگر دوسرے ممبر اسے چور سمجھتے تھے۔ایک دوست جو اب فوت ہو چکے ہیں اس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہ کہنے لگے دونوں فریق غلطی پر ہیں۔روپیہ آپ لوگوں کا ذاتی تھا یا چندہ کا۔چونکہ چندہ کا تھا اس لئے خدا کا تھا۔پس اگر خدا کے ایک بندہ نے ضرورت کے وقت اسے خرچ کرلیا تو اس میں مجرم کون سا ہے اور غلطی کیا ہے۔انہیں بہت سمجھایا گیا کہ یہ اصل ٹھیک نہیں مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔وہ بہت نیک آدمی تھے اور یہ حسن ظنی کم فہمی کی وجہ سے تھی مگر اس قسم کی حسن ظنی بھی خطرناک ہوتی ہے اور بددیانت بنا کر چھوڑتی ہے۔مدارس کے افسروں کو چاہیے کہ اپنے طلباء میں اخلاق کی روح پیدا کریں۔دوسرے صیغوں کا بھی یہی فرض ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اخلاق کی درستی کی طرف توجہ بہت کم ہے۔ظاہری باتوں کا ظاہری قانون اور ظاہری پابندیوں کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ناظر صاحبان بھی زیادہ تر انہی باتوں کا خیال رکھتے ہیں حالانکہ ظاہری باتیں بھی اخلاق سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔بد دیانت لوگ قوم کیلئے ناسور ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی میں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔جب تک ایسے افراد کا علاج نہ کیا جائے اور جو ناقابل علاج ہوں ان کو نکالا نہ جائے، ہماری جماعت کی ترقی مشکل ہے۔دیانت کے بغیر دنیا میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔بد دیانتی سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ حسن ظنی سے کام لینا چاہیئے تو ہمیں اس کیلئے میدان بھی صاف کرنا چاہیئے۔ایک شخص رات کو ایک جگہ سوتا ہے جہاں سے کبھی اس کا پاجامہ چوری ہو جاتا ہے، کبھی قمیض ، کبھی کوٹ اور کبھی ہوا۔اسے اگر کہا جائے کہ حُسن ظنی کام لو یہاں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو سکتا تو وہ ہماری بات کس طرح مان حافظ مرحوم نے کیا خوب کہا ہے کہ:-۔سکتا ہے۔