خطبات محمود (جلد 15) — Page 192
خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۴ء یقینا گر پڑتا۔وہ سناتے ہیں ان کے ماتحت چھ احمدی تھے جن میں سے پانچ کو ایسے ہی جرائم میں نکالنا پڑا ایک عورت اغواء کی گئی اور وہ ایک غیر احمدی کے پاس پائی گئی۔اس ملازم کے خلاف جب کارروائی کی گئی تو ایک اور احمدی اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ تمہارے ساتھ اس افسر نے بہت ظلم کیا ہے اس کی شکایت میں امیر جماعت کے پاس کروں گا۔اس احمدی کی غرض صرف مفت کی نیک نامی حاصل کرنا تھی۔یہ مثالیں بد دیانتی اور کام چوری کی ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دیانت کا اعلیٰ مقام ہمارے بعض افراد کو حاصل نہیں بلکہ ان کا اتنا ادنیٰ مقام ہے جو گری ہوئی اقوام کیلئے بھی باعث ننگ و عار ہو۔اور پھر وہ ایسی بددیانتی احمدیت کے نام کے پردہ میں کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اپنے ساتھ احمدیت کو بھی بدنام کرتے ہیں۔گو یہ سب لوگ جو زیر الزام آئے ایک ایسے ضلع کے تھے جو چوری کیلئے مشہور ہے اور جس کی نسبت کہتے ہیں کہ وہاں کا کوئی شخص چوری کی علت سے پاک نہیں مگر احمدی ہو کر تو انسان کو پاک ہو جانا چاہیے۔مسلمانوں نے پستی کے زمانہ میں جو بد عادات پیدا کرتی ہیں، وہ احمدی ہو کر بالکل چھٹ جانی چاہئیں۔مسلمانوں میں افسوس ہے کہ منزل کے ساتھ بعض بد عادات پیدا ہو گئی ہیں۔میں ایک دفعہ کشمیر گیا۔وہاں ایک قسم کا قالین مختلف لوئیوں کے ٹکڑے جوڑ کر بناتے ہیں جسے گابا کہتے ہیں۔میں نے وہاں کے ایک مشہور کاریگر کو ایک بڑے سائز کے گالے کا آرڈر دیا اور اس کے مطابق قیمت بھی دے دی لیکن جب وہ بن کر آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ آرڈر کردہ سائز - چوتھائی کم تھا۔میں نے اس بد دیانتی کی وجہ دریافت کی تو جو جواب وہ مجھے دے سکا اور جسے وہ بہت زیادہ معقول اور وزنی سمجھتا تھا، وہ یہ تھا کہ میں مسلمان ہوں۔گویا اس کے نزدیک مسلمان کے معنی ہی یہ تھے کہ بددیانتی کرنے والا۔اب یہاں بھی یہ شکایت پیدا ہو رہی ہے کہ کام دیانتداری سے نہیں کیا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ ایک برادری ہے، کسی غیر کا کام تو نہیں۔گویا یہ چوروں کی برادری ہے اور یہاں سب ٹھگ ہونے چاہئیں حالانکہ مومن دوسروں سے زیادہ چست ہوتا ہے لیکن بعض لوگوں نے شاید یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ جو نماز پڑھتے یا چندے دیتے ہیں، اس کی کسر کام کی بددیانتی کر کے نکالنی چاہیئے۔چونکہ نمازیں پڑھنے میں دو گھنٹے صرف ہوتے ہیں، اس لئے اتنا وقت کام کا حرج کر کے نکال لینا چاہیے اور چونکہ دو روپیہ چندہ دیتے ہیں اس لئے اتنی خیانت کرلینی چاہیے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس نیکی کا کیا وہ