خطبات محمود (جلد 15) — Page 110
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ تو ممکن نہیں۔چھوٹے کاموں میں بھی بے شک ہوشیاری اور بیداری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی بڑے کاموں میں اور ہمارا کام اتنا عظیم الشان ہے کہ انسان اسے اپنی طاقت سے کر ہی نہیں سکتا۔اگر ظاہری فتوحات ہمارے ذمہ لگادی جاتیں تو بندوق سے، تلوار سوٹے سے یا اگر کوئی چیز بھی ہمارے پاس نہ ہوتی تو ہاتھوں سے یا دانتوں سے کاٹ کر ہی دشمن کو یا تو مغلوب کرلیتے اور یا خود مرجاتے۔اس میں بہر حال ہمارے لئے کچھ کرنے کی گنجائش تھی مگر ہمارے - سپرد جو کام کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے دلوں کے قلعے فتح کرنے ہیں اور یہ وہ قلعے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہیں لگ سکتا کہ ان کا دروازہ کہاں ہے۔دل کے دروازہ کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے اور اس کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ اس پر خوف سے اثر ہوتا ہے اور کسی پر طمع سے، جس کا نام قرآن کریم نے امید رکھا ہے۔یہ امید بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔اگلے جہان کی امیدیں، پھر اس جہان کے متعلق مالی، علمی، خاندانی وغیرہ وغیرہ۔پھر ان کی آگے ہزار ہا قسمیں ہیں اور کچھ معلوم نہیں کون سی کھڑکی ہے جس سے اثر ہو۔غرضیکہ یہ اتنا وسیع اور مشکل کام ہے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے کہ انسانی طاقت اسے بخوبی کرنے کی اہل نہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کے وعدے نہ ہوتے کہ اس کام کو ہم خود کریں گے تو ہم سمجھتے ہمارے ساتھ مذاق کیا گیا ہے اور اس صورت میں ہماری مثال الف لیلہ کے قصہ کی سی ہوتی۔اس میں لکھا ہے کہ ایک امیر آدمی کے محل کی دیوار پر اس کے نام کا بورڈ لٹک رہا تھا۔ایک در شخص جو اس کا ہم نام تھا۔پاس سے گزرا تو بورڈ دیکھ کر کہنے لگا کہ یہ شخص بھی میرا ہم نام ہے مگر کیا آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے اور میں کیسی تکلیف میں ہوں۔اس امیر آدمی نے بھی یہ بات سن لی اور اسے محل میں بلا لیا، بٹھایا، نوکروں سے کہا کہ دسترخوان بچھاؤ۔وہ آتے اور یونی ہاتھ پھیر کر چلے جاتے اور وہ امیر اس سے کہتے کہ دیکھو کیسا اچھا دسترخوان ہے۔پھر حکم دیا کہ آفتابہ لاؤ اور ہاتھ ڈھلاؤ۔وہ پانی بھی ڈالتے مگر اس کے ہاتھوں پر کچھ نہ پڑتا۔اسی طرح انواع و اقسام کے کھانے منگوائے گئے مگر وہ بھی محض مذاق تھا۔وہ غریب آدمی بھی بامذاق تھا وہ بھی ساتھ ساتھ تعریف کرتا جاتا۔تو یہی حالت ہماری ہوتی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف۔نہ دلایا جاتا کہ کام تم نے نہیں بلکہ ہم نے کرنا ہے۔یہی وعدہ ہماری ڈھارس بندھاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے احباب کو توجہ دلائی تھی کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات ضرور پڑھنے چاہئیں کیونکہ ان کے مطالعہ