خطبات محمود (جلد 15) — Page 111
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء سے ایمان تازہ ہوتا اور ہمت بندھتی ہے وگرنہ ممکن ہے بعض لوگ تھوڑی دیر کے بعد ہمت ہار دیں باوجود اس کے کہ خدا نے اس کام کا کرنا اپنے ذمہ لیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ خدا کی ذمہ داریاں مشروط ہوتی ہیں۔وہ کچھ بندہ سے بھی چاہتا ہے اور جتنا کوئی کام اہم ہو، اتنی ہی بندہ پر ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے۔اسی غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مجلس شوری قائم کی تھی تا اس کام کیلئے جماعت کی تربیت ہو سکے اور وہ اپنی ذمہ داریوں پر غور کر سکے۔مگر یہ کام صرف افراد کے غور کرنے سے ہی نہیں چل سکتا بلکہ اس کیلئے اعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔مشاورت تو اللہ تعالیٰ نے بعض مفاسد کو روکنے کیلئے رکھی ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ جنہیں اس کام کیلئے کھڑا کرتا ہے، وہ کسی کے مشورہ کے اتنے محتاج نہیں ہوتے جتنے لوگ ان کے مشوروں کے محتاج ہوتے ہیں۔اس سے مقصد تو صرف یہ ہوتا ہے کہ ان سے مشورہ لے کر ان کے اندر بشاشت پیدا کی جائے وگرنہ جو بات کرنی ہوتی ہے وہ اللہ تعالی انہیں پہلے سے ہی سمجھا دیتا ہے۔پھر ان کے خلفاء کا بھی یہ حال ہوتا ہے۔وہ مشورہ کے اتنے محتاج نہیں ہوتے مگر تربیت کیلئے اور جماعت کو صحیح طریق پر چلانے کیلئے اللہ تعالٰی نے یہ ایک رستہ قرار دیا ہے۔لیکن مشورہ خواہ کتنا اعلیٰ ہو اور اس کا نتیجہ خواہ کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو جب تک ہمارے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا نہ ہو، کچھ نہیں ہو سکتا۔ہمارے اعمال میں لہریں پیدا ہونی ضروری ہیں اور لہروں کے پیدا ہونے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ نہ سیدھی نیچے جائیں اور نہ سیدھی اوپر ، حقیقی ہر ہمیشہ اسی صورت میں پیدا ہوگی جب متوازی چلے گی وگرنہ ناقص رہے گی۔اگر پتھر کی طرح نیچے جائیں تب بھی فائدہ نہیں اور اگر سیدھے اوپر تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔لہروں کے چلنے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ متوازی چلیں۔بچپن میں بچے ایک کھیل کھیلتے ہیں کہ پانی کے کنارے کھڑے ہو کر اور جھک کر ٹھیکری سطح کے ساتھ ساتھ پھینکتے ہیں جو کبھی پانی کے اندر سے کبھی اوپر سے کودتی ہوئی چلی جاتی ہے۔اس حالت میں لہرین پیدا وسکتی ہیں اور یہی ترقیات کی ضامن ہو سکتی ہیں۔وگرنہ اگر کوئی نیچے کی طرف جاتا ہے تو وہ کافر ہے اور اوپر تو صرف نبی ہی جاسکتے ہیں۔درمیان میں وہی لہر والی حالت ہوتی ہے اور وہی مومن کی حالت ہے۔جب تک یہ لہر پیدا نہ ہو اور جب تک ایک ایسا محدود تنزل نہ ہو جس کے بعد لازماً ایک نئی طاقت پیدا ہو اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس دوستوں کو چاہیے کہ اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔اس موقع پر بعض مہمان بھی گفتگو سننے کیلئے آجاتے ہیں۔