خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 109

خطبات محمود 1۔9 سال ۱۹۳۴ء ہے۔بعینہ یہی حالت روحانی ترقی کی ہے۔ہر انسان کو کوشش یہ کرنی چاہیئے کہ پہلی قبض - دوسری کم اور پہلی بسط سے دوسری زیادہ ہو۔پس ایک تو اس چیز نے انسان کو مایوسی سے بچا لیا اور دوسرے روحانی ترقی کو لہر کی مانند قرار دے کر بتادیا کہ کوئی ایک ضرب ایسی نہیں جو اوپر لے جائے بلکہ ہر ضرب کے بعد دوسری کی ضرورت باقی رہتی ہے اور جو ایک ہی کو کافی سمجھ لے وہ ناکام رہتا ہے۔پس یہ روحانی ترقی کا ایک عظیم الشان گر بیان کیا گیا ہے جو بتاتا ہے کہ کسی ایک فعل سے خدا نہیں مل سکتا بلکہ مسلسل کاموں سے ملتا ہے۔ہر ایک فعل ایک حد تک خدا کے قریب کرے گا۔مگر پھر اس کی روحانیت کو غذا کی ویسی ہی ضرورت رہے گی جیسے صبح کا کھانا کھانے کے بعد شام کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔صبح کی نیکی شام کے کام نہیں آسکتی جس طرح صبح کا کھانا شام کے وقت بھوک سے نہیں بچا سکتا بلکہ جس طرح جسمانی غذا میں تسلسل ہے اسی طرح روحانی حالت میں بھی یہ جاری رہنا چاہیئے۔جس وقت یہ بند ہو وہی وقت انسان کی تباہی کا ہوتا ہے۔ایک انسان خواہ دس میل تک تیرتا چلا جائے لیکن جب بھی وہ ایک ہاتھ کے بعد دوسرا مارنے کی ضرورت نہ سمجھے گا غرق ہو جائے گا۔زیادہ فاصلہ طے کر لینا اس بات کا ضامن نہیں ہو سکتا کہ اب ڈوبنا ممکن نہیں۔اگر کوئی شخص جو میں اڑ رہا ہو تو وہ ایک میل سے بھی گر سکتا ہے اور دس میل سے بھی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ دس میل اوپر جانے کے بعد اس کیلئے گرنے کا امکان نہ رہے۔امکان تو ایک میل پر بھی ہے اور دس میل پر بھی۔البتہ نتائج کے لحاظ سے دس میل سے گرنا ایک میل سے گرنے کی نسبت زیادہ خطرناک ہوگا۔پس یہ دو فوائد ہیں جو اس مسئلہ سے معلوم ہوئے۔اور اب دنیا عام طور پر اسی طرف مائل ہو رہی ہے کہ ہر چیز لہریں رکھتی ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد پیدا ہوتی رہتی ہیں۔نشیب و فراز کو ہی لہر کہا جاتا ہے اور یہ ہر بات میں پایا جاتا ہے۔اس طرح گویا دنیا نے آج اس چیز کو تسلیم کرلیا جو ہمیں قرآن کریم نے آج سے قریباً چودہ سوسال قبل بتادی تھی۔ہماری جماعت میں جو کام ہو رہے ہیں، ان کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ان قوانین کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔بڑے کاموں میں غلطیاں ہمیشہ خطرناک نتائج پیدا کرتی ہیں۔اگر کوئی ہوائی جہاز سو گز اُوپر اُڑ رہا ہو تو ممکن ہے چھتری کے ساتھ نیچے کود کر ایک اناڑی آدمی بھی اپنی جان بچا سکے لیکن ایک یا دو میل کی بلندی سے گرنے والے کیلئے چھتری کے ذریعہ بیچ سکتا