خطبات محمود (جلد 14) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۳ ہو۔ہے۔حالانکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کا اتنا وقت مقرر ہے۔اور اسی وقت میں انہیں تمام گفتگو کرنی چاہئیے مگر وہ پہلے پیٹ بھر کر اور اور باتیں کرتے رہیں گے۔اور جب وقت ختم ہوگا تو انہیں ایک بات اور یاد آجائے گی۔پھر جب وہ بات ختم ہوگی تو دوسری یاد آجائے گی اور اس طرح باتوں میں سے باتیں نکالتے جائیں گے یہانتک کہ ان باتوں کا نمبر آٹھ دس تک پہنچ جائے گا۔پس ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ گفتگو سے دوسرے کے دل میں ملال پیدا نہ مگر یہ بھی یاد رہے کہ ملال دو قسم کا ہوتا ہے۔بعض لوگ تو پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہاری باتیں نہیں سننا چاہتے۔وہ شروع سے ہی توجہ نہیں کرتے۔اور بعض لوگ توجہ تو کرتے ہیں مگر جب گفتگو کی طوالت دیکھتے ہیں تو بیزار ہو جاتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ جب بات ملال کی حد تک پہنچ جائے تو انسان خاموش ہو جائے۔ایک دن میں کوئی شخص مانا نہیں کرتا سوائے اس کے کہ کوئی شخص پہلے سے تیار ہو۔اس لئے اس ایک دن میں جتھے بازی اور نمائش نہیں کرنی چاہیئے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ لوگ پہلے مسجدوں میں جائیں اور وہاں رو رو کر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینے حق قبول کرنے کیلئے کھول دے۔انہیں باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اعلیٰ دلائل سمجھائے اور ہماری زبان اور ہمارے ہر کام میں ایسی برکت ڈالے جس سے دوسرے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔پس اکٹھے ہو کر مسجدوں میں دعائیں کرو مگر جب باہر نکل رہے ہو تو اُس وقت جتنے والی صورت نہ ہو۔پھر تبلیغ میں اس امر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ وہ شخص جو صفائی سے کہہ دے کہ میں تمہاری باتیں سننا نہیں چاہتا اسے باتیں نہیں سنانی چاہئیں۔رسول کریم ال عکاظ کے میلہ میں جب تبلیغ کیلئے تشریف لے جاتے تو جہاں جہاں لوگ اکٹھے ہوتے وہاں جاکر فرماتے میں کچھ باتیں سنانا چاہتا ہوں۔بعض کہتے ہم سنتا چاہتے ہیں اور بعض کہہ دیتے کہ ہم نہیں سننا چاہتے۔جو لوگ سننے سے انکار کرتے رسول کریم وہاں سے اٹھ آتے۔اسی طرح حضرت مسیح ناصری نے بھی حواریوں کو نصیحت کی ہے کہ اگر کوئی تمہیں قبول نہ کرے اور تمہاری باتیں نہ سنے تو اس گھر یا اس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ دو ہے۔لیکن بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں تو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم باتیں سنیں مگر ظاہر یہی کرتے ہیں کہ ہم سننا نہیں چاہتے۔گویا ان کی مرضی ہوتی ہے کہ باتیں سنانے کیلئے اصرار کیا جائے اور یہ عظمند کا کام ہوتا ہے کہ وہ معلوم کرے کہ کسی کا انکار بالکل