خطبات محمود (جلد 14) — Page 252
خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۳ تو انکار ہے یا زیادہ اصرار کی خواہش رکھنے والا انکار ہے۔بچپن میں جب ہم مدرسہ میں پڑھا کرتے تھے تو ہمارے ایک استاد تھے۔ان کی عادت تھی کہ جب ہم سکول میں جاتے اور ہمارے پاس کوئی کھانے کی چیز دیکھتے تو کہتے دیکھنا مجھے نہ کھلا دینا۔وہ یہ کہتے جاتے اور ہم اصرار کے ساتھ ان کے منہ میں مٹھائی یا کوئی اور چیز ڈالتے جاتے اور وہ کھاتے جاتے۔تو بعض لوگوں کی مراد نہیں کہنے سے دراصل ہاں ہوتی ہے۔گویا انکار سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ تم اٹھ جاؤ بلکہ یہ ہوتی ہے کہ باتیں سنانے کیلئے ذرا اصرار کرو۔ہاں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو واقعہ میں سننا نہیں چاہتے۔اور جو یہ کہے کہ میں سننا نہیں چاہتا اسے خدا بھی نہیں سناتا اور نہ ایسا شخص فائدہ اٹھانے کے قابل ہوتا ہے۔پس وہاں سے اٹھ جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق بہت وسیع ہے ایک نہیں سنتا تو دوسرے کے پاس جاؤ۔وہ بھی نہیں سنتا تو تیسرے کے پاس جاؤ۔وہ بھی نہ سنے تو چوتھے کے پاس جاؤ اگر کوئی بھی نہیں سنتا تو بازار میں کھڑے ہو کر تقریر شروع کردو۔ممکن ہے کسی راستہ پر گزرنے والے کے کان میں کوئی بات پڑ جائے اور اسے فائدہ ہو جائے اور اگر کوئی بھی نہیں سنتا تو جیسے مسیح نے کہا اس گاؤں یا شہر کی گرد اپنے پاؤں سے جھاڑ دو۔اور دوسرے گاؤں میں تبلیغ کیلئے نکل جاؤ۔اور ایسے طریق سے اپنی باتیں سناؤ جس میں محبت کا رنگ پایا جائے۔یہ نہ ہو کہ سننے والے کو یہ محسوس ہو کہ گویا تم زبردستی اپنی باتیں سنا رہے ہو۔اگر زبردستی سناؤ گے تو وہ بظاہر تو تمہاری باتیں سنے گا مگر دل میں تمہیں گالیاں دیتا جائے گا۔اور کہے گا میں کس مصیبت میں پھنس گیا۔احمدی کیسے ضدی اور نامعقول ہوتے ہیں۔اس طرح احمدیت کا نقش اس کے دل پر یہ نہیں بیٹھے گا کہ احمدی نہایت مخلص ہوتے ہیں۔بلکہ وہ خیال کرے گا کہ احمدی نہایت ضدی اور نامعقول ہوتے ہیں۔پس ایسا آدمی احمدیت کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔تیسری بات یہ یاد رکھو کہ دلائل اتنا اثر نہیں رکھتے جتنا اخلاص اور عمل اثر رکھتا ہے۔پس یوم التبلیغ آنے سے پہلے اس کیلئے تیاری کرو اگر کسی سے لڑائی اور جھگڑا ہے تو اس سے معافی مانگو اور صلح کرلو تاکہ یہ صلح تمہارے کام آئے۔اگر تم عاجزانہ رنگ میں حق پر ہوتے ہوئے دوسرے سے معافی مانگتے اور اس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہو تو اس پر نہایت ہی خوشگوار اثر پڑے گا۔اور وہ خیال کرے گا کہ احمدی کتنے اچھے ہوتے ہیں کہ باوجود قصور وار نہ ہونے کے معافی طلب کرتے ہیں۔اس طرح احمدیت کے متعلق اس کے دل میں نہایت اچھے خیالات ہوں گے اور جب تم تبلیغ کروگے تو اس سے لازماً متأثر ہوگا۔