خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 250

خطبات محمود ۲۵۰ سال ۱۹۳۳ء وہ لٹھ ایمان کی دولت سے انہیں مالا مال کرتے ہیں۔مگر جب وہ بات کر رہے ہوتے ہیں اس وقت تو اُسی کو ایمان سمجھ رہے ہوتے ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے۔پس سب سے پیاری اور قیمتی چیز ہم ان سے مانگتے ہیں۔ان کا دل ان کا دماغ اور ان کی جان اپنے قبضہ میں کرنا چاہتے ہیں۔ایسے موقع پر اگر ہم لٹھ لے کر کھڑے ہو جائیں تو کتنی بُری بات ہو گی۔ترلے کے مقام پر کتنی بُری چیز معلوم ہوتی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ جب تم تبلیغ کرنے کیلئے نکلو تو تمہارے ہاتھوں میں سونٹانہ ہو۔یہ تو میرا حکم ہے اور ہر مخلص احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں سونٹا رکھے۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ سونٹے کی نمائش نہ کی جائے۔عاجزانہ رنگ میں دوسروں کے پاس جاؤ۔تمہارے چہروں سے محبت کے آثار ظاہر ہوں۔زبان پر شیریں الفاظ جاری ہوں۔آنکھوں میں نمی ہو۔اور یوں معلوم ہو کہ گویا یہ خیال تمہیں تڑپا رہا ہے کہ ایک عزیز تمہارا تباہ ہو رہا ہے۔اسے بچانے کیلئے تم آئے ہو تم اپنے ڈوبتے بھائی کو بندوق کی گولی - نہیں بچا سکتے بلکہ اسے سہارا دے کر اپنے اوپر اٹھا لیتے ہو۔یہی طریق تبلیغ میں بھی اختیار کرو۔پس گو جلوس سے جہاں احمدیوں کی کثرت ہو وہاں دوسرے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کتنے سے بڑے جلوس میں احمدی جارہے ہیں۔اور جہاں احمدیوں کا زور نہ ہو وہاں دوسرے لوگ۔خیال کرسکتے ہیں کہ احمدی نڈر ہوتے ہیں۔مگر باوجود اس خیال کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانیں گے نہیں۔بلکہ ایسی حالت میں اگر کسی غیراحمدی کو گھیر لیا جائے تو اس وقت اس کے اسی قسم کے خیالات ہوں گے جیسے ڈاکوؤں میں اگر کوئی شخص گھر جائے تو اس کے قلب کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔وہ بظاہر تو یہی کہہ رہا ہو گا کہ ہاں حضرت عیسی وفات پاگئے۔مگر دل میں یہ کہہ رہا ہوگا کہ خدایا! مجھے ان سے نجات دے۔بظاہر باتیں سنتا جائے گا مگر اصل خیالات اس کے ادھر ہی ہوں گے کہ الہی میں کس مصیبت میں پھنس گیا مجھے جلدی ان سے چھٹکارا دے۔پس اس قسم کا طریق اختیار کرنا تبلیغ کو نقصان پہنچانا ہے۔پھر بعض دفعہ انسان اتنی لمبی اور فضول بات شروع کر دیتا ہے کہ دوسرا تنگ آجاتا ہے۔میں نے ملاقاتوں کے وقت دیکھا ہے بعض لوگ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ پہلے پورا پیٹ بھر کر باتیں کرلیں۔اور جب انہیں کہا جائے کہ اب وقت ختم ہو گیا تو وہ کہہ دیں کہ ایک بات اور کہنی ہے۔پھر وہ ایک بات اسی طرح لمبی ہوتی جاتی ہے جس طرح ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ شیطان کی آنت کے برابر۔پھر وہ ایک بات ختم کر لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ذرا سی ایک اور بات بھی