خطبات محمود (جلد 14) — Page 238
خطبات محمود ٢٣٨ سال ۱۹۳۳ تو عمل تبلیغ نہ کرو معنی یہ ہوں گے کہ جانے بھی دو خدا تو ایسی باتیں کہا ہی کرتا ہے۔مگر کیا کوئی معقول اور سمجھدار انسان یہ بات ماننے کیلئے تیار ہو گا۔یہ تو ان کا حق ہے کہ وہ کہیں یہ بات خدا نے نہیں کی۔بلکہ حضرت مرزا صاحب کو (نَعُوذُ باللهِ) دھوکا لگا۔مگر یہ کہنا کہ مانو تو خدا کی طرف سے لیکن اس پر عمل نہ کرو اسے کوئی بھی شخص تسلیم نہیں کر سکتا۔پس اگر ہم عقل سے ایک بات پیش کرتے تو اس کے متعلق کہا جاسکتا تھا کہ یہ چھوٹی ہے یا بڑی۔لیکن جب ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر آسمان سے کلام نازل کیا اور حکم دیا کہ یہ تعلیم لے کر دنیا میں کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں سے منواؤ تو پھر یہ بات چھوٹی نہیں ہو سکتی۔پس جب تک ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خدا نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم تبلیغ احمدیت کریں اس وقت تک ہمارا فرض ہے کہ ہم تبلیغ احمدیت کرتے رہیں۔ہاں یہ دوسرے شخص کا کام ہے کہ وہ ثابت کرے خدا نے یہ بات نہیں کہی بلکہ تمہارے نفسوں کو دھوکا لگا ہے۔مگر جب تک وہ یہ ثابت نہیں کر سکتے خدا کا حکم چھوٹا نہیں کہلا سکتا۔اس پر کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر انقلاب والے یہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب سے غلطی ہوئی انہیں دھوکا لگا خدا نے انہیں اس امر کا حکم نہیں دیا تو یہ ان کا جائز حق تھا۔مگر ایک بات پھر بھی میں کہوں گا کہ جس وقت وہ ہمیں مخاطب کر کے یہ کہتے کہ مرزا صاحب کو دھوکا لگا اور اس پر بحث کرتے تو بہر حال انہیں یہ تسلیم کرلینا پڑتا کہ یہ چھوٹی بات نہیں بلکہ بڑی بات ہے۔اور انہیں مانا پڑتا کہ چھوٹی باتوں پر بھی بحثیں جائز ہوتی ہیں۔لیکن ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ چھوٹی چیز ہے یا بڑی۔ہم یہ جانتے ہیں کہ خدا نے اس کا حکم دیا۔ایک روڑی پر پڑا ہوا حقیر تنکا جسے آلائش لگی ہوئی ہو۔اگر اس سے بھی یہ چھوٹی چیز ہے تو ہمارے لئے بڑی ہے۔کیونکہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا نے کہی۔پس سوال یہ نہیں کہ یہ بات چھوٹی ہے یا بڑی بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ بات کس نے کہی۔ٹالسٹائے روس کا ایک رئیس گزرا ہے۔بہت مشہور آدمی تھا۔حتی کہ گاندھی جی آج کل جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بھی ٹائٹائے کی کتابوں کو ہی پڑھ کر انہوں نے اثر قبول کیا۔اس کا ایک پردادا بادشاہ کا چپڑاسی تھا۔ایک دفعہ بادشاہ نے حکم دیا کہ میں ایک ضروری کام کرنا چاہتا ہوں۔تم دروازے پر کھڑے ہو جاؤ اور کسی کو اندر نہ آنے دو۔اتفاق ایسا ہوا کہ ایک گرینڈ ڈیوک (GRAND DUKE) اسی وقت بادشاہ سے ملنے کیلئے آیا۔روسی قوانین میں یہ امر