خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 237

خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۳ء کہتے ہیں کہ یہ معمولی سی بات ہے۔زمیندار والے کہتے ہیں کہ یہ اتنا بڑا فتنہ ہے جو تیرہ سو سال میں ظاہر نہیں ہوا۔اب اگر یہ چیز گمراہی کے لحاظ سے بڑی ہے تو اگر حق ثابت ہو جائے تو حق کے لحاظ سے بھی بہر حال بڑی ہوگی۔یہ ایک ہی شہر میں رہنے والے ایک ہی مذہب کی طرف منسوب ہونے والے اور ایک لمبے عرصے تک اکٹھا کام کرنے والوں کا حال ہے ایک کہتا ہے چھوٹی چیز ہے۔اور دوسرا کہتا ہے کہ یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ تیرہ سو سال میں اتنی بڑی چیز ظاہر نہیں ہوئی۔ایک کے نزدیک ضلالت ہے مگر معمولی سی ضلالت اور ایک کے نزدیک گمراہی ہے اور بہت بڑی گمراہی۔پس اگر احمدیت حق ہے تو انقلاب والوں کے نزدیک چھوٹا سا حق ہے۔اور زمیندار والوں کے نزدیک اتنا بڑا حق کہ تیرہ سوسال میں اتنا بڑا حق ظاہر نہیں ہوا۔چیز کے حجم کا سوال ہے۔ایک اسے چھوٹا کہتا ہے اور ایک بڑا۔اگر ہم گمراہی کا نام حق رکھ دیں تو حجم تو اتنا ہی رہے گا، چھوٹا نہیں ہو جائے گا۔پس اس اختلاف کو طے کرنا انسانی عقل سے بالکل ناممکن ہے۔بحثیں ہو سکتی ہیں لیکن وہ ایسا لمبا راستہ ہوگا جس کا طے کرنا مشکل ہو گا۔اسی طرح رفع یدین کا مسئلہ ہے۔ہم بھی اسے چھوٹا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں جس کا جی چاہے ہاتھ اٹھائے جس کا جی چاہے نہ اٹھائے۔مگر جن لوگوں نے اس کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کی ہیں، ان کی ڈاڑھیاں منڈوائی گئیں، منہ کالے کئے گئے اور ملکوں سے نکال دیئے گئے۔حضرت عبداللہ صاحب غزنوی کو ہی جب افغانستان سے نکالا گیا تو انہیں گدھے پر سوار کیا گیا، منہ کالا کیا گیا اور جگہ بہ جگہ پھرایا گیا۔جھگڑا یہی تھا کہ یہ آمین بالجر ، رفع یدین اور تشد میں انگلی اُٹھانے کے قائل تھے۔اسی طرح اور بہت سے چھوٹے چھوٹے امور ہیں جن کی وجہ سے بزرگان دین کو تکلیفیں دی گئیں۔مگر جنہوں نے تکلیفیں دیں وہ انہیں بڑی ہی سمجھتے تھے۔پس اپنے اپنے رنگ اور اپنے اپنے خیال کے مطابق ایک چیز کو چھوٹا بڑا سمجھا جاسکتا ہے۔اس لئے ایک اور امر ہے جس سے معقول تصفیہ ہو سکتا ہے۔اور وہ یہ کہ تبلیغ احمدیت کو چھوٹی سے چھوٹی چیز قرار دے لو جتنی چھوٹی انقلاب والوں نے کبھی ہے، اس سے بھی دس ہزار گنا چھوٹا بلکہ دس کروڑ گنا چھوٹا سمجھ لو۔مگر ایک چیز ہے جو اسے بڑا بنادیتی ہے اور وہ یہ کہ ہمارا دعوی یہ نہیں کہ ہم نے پہلے کچھ سوچا غور کیا اور پھر اسے دنیا میں پھیلانے کیلئے نکل کھڑے ہوئے بلکہ ہمارا دعوئی یہ ہے کہ ہمیں خدا نے کہا جاؤ اور یہ چیز دنیا کو پہنچاؤ۔اور اگر یہ بات سچی ہے کہ ہمیں خدا نے ہی کہا جاؤ اور دنیا میں احمدیت کو پھیلاؤ تو یہ کہنے کے کہ