خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 108

خطبات محمود ۱۰۸ سال ۱۹۳۳ء جاؤں تو وہ گنہگار ہو گا۔مگر وہ جو بے قرار ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے جیسے معشوق جب عاشق کے سامنے آئے تو وہ اس کیلئے کھڑا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، اس پر گرفت نہیں۔قاضی سیدامیرحسین صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص احمدی تھے۔میں نے ان سے بہت عرصہ پڑھا ہے وہ احمدیت کے متعلق اپنے اندر عشق کا جذبہ رکھتے تھے۔مجھے یاد ہے میری خلافت کے ایام میں ایک دفعہ جب میں مسجد میں آیا تو قاضی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے میں نے کہا قاضی صاحب! آپ تو کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا شرک قرار دیا کرتے تھے کہنے لگے۔”کی کراں میں سمجھدا تے ایسی ہاں پر دیکھدے ہی کچھ ہو جاندا ہے رہیا جاندا ہے ہی نہیں۔یعنی کیا کروں میں سمجھتا تو یہی ہوں۔لیکن آپ کو دیکھ کر ایسا جذبہ طاری ہوتا کہ میں بیٹھا نہیں رہ سکتا۔تو حالات کے مختلف ہونے اور جذبات کی بے اختیاری کی وجہ سے دلتے رہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں مصافحہ بھی اسی رنگ کی چیز ہے جب مصافحہ رسم و رواج کے ماتحت ہو یا دکھاوے کے طور پر یا اس لئے ہو کہ شاید یہ شرعی احکام میں سے ہے یا اخلاص کے اظہار کا یہ بھی کوئی ذریعہ ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔لیکن جب کوئی دیر سے ملتا ہے اور چاہتا ہے کہ بتلائے کہ میں آگیا ہوں یا بیمار چاہتا ہے کہ میں بتاؤں مجھے صحت ہو گئی ہے۔یا کوئی اس لئے مصافحہ کرتا ہے کہ تا دعاؤں میں وہ یاد رہ سکے تو ایسے موقعوں پر مصافحه ایک نہایت ہی مفید مقصد کو پورا کر رہا ہوتا ہے۔مگر دوسرے اوقات میں وہ بعض دفعہ وقت کو ضائع کرنے والا بھی ہو جاتا ہے۔یہ چند باتیں ہیں جو میں نے کہی ہیں اور کچھ باتیں اِس وقت بھول بھی گئی ہیں اور بعض ممکن ہے ابھی اور بھی بیان کرنے والی ہوں، انہیں پھر بیان کردوں گا۔لیکن یہ تمام باتیں اپنی اپنی جگہ بہت سے مفید مقاصد رکھتی ہیں جماعت کو چاہیے کہ انہیں مد نظر رکھے۔مجالس کو کھلا رکھنا چاہیے، قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ضروری ادب ہے اور اس کے بہت سے فائدے ہیں یہی فائدہ نہیں کہ دوسروں کو جگہ مل جائے گی اور صحت پر اس کا خوشگوار اثر پڑے گا بلکہ اور بھی باریک روحانی مطالب پر مشتمل فوائد ہیں اور یہ مختصر خطبہ ان کا حامل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح کھڑکیوں کو کھلا رکھنا چاہیے جسم اور گھروں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیئے۔اور مجلس میں خوشبو لگا کر آنا چاہیئے۔بدبودار چیزیں کھا کر اجتماع کے موقعوں پر نہیں آنا چاہیئے اور بدبودار چیزیں ہی نہیں اگر کسی کو کوئی بغل گند وغیرہ کی بیماری ہو تو اچھی طرح صفائی کر کے