خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 107

خطبات محمود سال ۴۱۹۳۳ بعض لوگ دوسروں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہر وقت مصافحہ کرنا ضروری ہے۔مصافحہ کا اصل وقت تو وہ ہوتا ہے جب کوئی شخص باہر جارہا ہو یا باہر سے آیا ہو۔یا ساتویں آٹھویں دن اس لئے مصافحہ کرے کہ تا دعاؤں میں اسے یاد رکھا جائے اور اس کا تعارف قائم رہے یا کسی بیمار نے بیماری سے شفا پائی ہو تو وہ یہ بتانے کیلئے مصافحہ کرے کہ اب وہ اچھا ہو گیا ہے یہ اور چیز ہے۔مگر پالالتزام بغیر اس کے کہ نفس اس مقام پر پہنچا ہوا ہو کہ انسان مصافحہ کرنے پر مجبور ہو جائے دوسروں کو دیکھ کر یہ کام کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم کہ جو میرے استاد بھی تھے بوجہ اس کے کہ وہ اہلحدیث میں سے آئے تھے بعض مسائل میں اختلاف تھا۔ایک دفعہ سوال زیر بحث تھا کہ مجلس میں کسی بڑے آدمی کے آنے پر کھڑا ہونا جائز ہے یا نہیں۔قاضی سید امیرحسین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ شرک ہے۔اور رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔آخر یہ جھگڑا اتنا طول پکڑ گیا کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا۔اُس وقت یہ سوال ایک رقعہ پر لکھا گیا اور میں رقعہ لے کر اندر گیا۔اس وقت اگرچہ میں طالب علم تھا مگر چونکہ مذہبی باتوں سے مجھے بچپن سے ہی دلچپسی رہی ہے اس لئے میں ہی وہ رقعہ اندر لے گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے جواب میں زبانی کہا یا تحریر کیا مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔خیال یہی آتا ہے کہ آپ نے تحریر فرمایا کہ دیکھو وفات کے موقع پر کوئی ایسی حرکت کرنا جیسے دو ہتر مارنا شریعت نے سخت ناجائز قرار دیا ہے۔لیکن جہاں تک مجھے خیال ہے روایت تو صحیح یاد نہیں۔آپ نے غالبا حضرت عائشہ " کا ذکر کیا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے موقع پر انہوں نے بے اختیار اپنے سینہ پر ہاتھ مارا ہے روایت لکھ کر آپ نے تحریر فرمایا کہ ایک چیز ہوتی ہے تکلف اور بناوٹ۔اور ایک چیز ہوتی ہے جذبہ بے اختیاری۔جو امر جذبۂ بے اختیاری کے ماتحت ہو اور ایسا نہ ہو جو نص صریح سے ممنوع ہو بعض حالتوں میں وہ جائز ہوتا ہے اور وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ فعل کرنے والے نے کس رنگ میں کیا۔سجدہ تو بہر حال منع ہے خواہ کسی جذبہ کے ماتحت ہو مگر بعض افعال ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بعض صورتوں میں تکلف اور بعض صورتوں میں جذبہ بے اختیاری کے ماتحت صادر ہوتے ہیں۔اس کے بعد آپ نے تحریر فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ ایک بڑے آدمی کے آنے پر چونکہ باقی لوگ کھڑے ہیں اس لئے میں بھی کھڑا ہو