خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 106

خطبات محمود 1۔4 سال ۱۹۳۳ء جب تک اور جس سے اخلاص اور محبت ہوگی اس کی سادہ بات بہ نسبت دوسروں کی لمبی فلسفیانہ تقریر کے بڑا اثر کرے گی۔پس مجلس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔پھر یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ میری مجلس میں جیسا کہ میں بتاچکا ہوں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں۔عالم بھی آتے ہیں اور جاہل بھی اور بعض دفعہ پاگل بھی آتے ہیں۔چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک پاگل شخص آیا ہے اور اس نے اپنی باتیں سنانی شروع کردیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خاموشی سے وقت گزار دیا جائے۔مگر دوسرے لوگ چونکہ اس امر کو نہیں سمجھتے اس لئے بعض دفعہ وہ بیچ میں آکودتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ ہماری مدد کی ضرورت ہے۔یہ دماغی خلل والے کئی لوگ میرے پاس آتے ہیں اور اس قسم کے سوال کرتے ہیں جن کے متعلق وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ معقول ہیں مگر میں ان کی دماغی حالت کو جانتا ہوں۔پس میں مختصر جواب دے دیتا ہوں یا خاموش رہتا ہوں اور جب وہ تکرار کرتے ہیں تو میں کہتا ہوں میں نے سن لیا اس پر غور کروں گا۔مگر ناواقف آدمی دخل دے دیتا ہے اور اس طرح بات کو خراب کر دیتا ہے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں ایک مصافحوں والا معاملہ بھی ہے۔باہر سے آنے والے دوست جن کو یہاں آنے کا بار بار موقع نہیں ملتا یا جمعہ کے موقع پر جبکہ مقامی لوگوں میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہفتہ بھر ملنے کا اور کوئی موقع نہیں ملا ہوتا، مجھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور ان کیلئے مصافحہ کی معقولیت میری سمجھ میں آسکتی ہے۔کیونکہ مصافحہ قلوب میں وابستگی اور پیوستگی پیدا کرتا ہے اور یہ معمولی چیز نہیں۔بلکہ احادیث سے ثابت ہے کہ عیدین وغیرہ مواقع صحابہ خصوصیت سے رسول کریم ﷺ کے ساتھ مصافحہ کیا کرتے۔مگر مجھے شبہ ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر نماز کے وقت مصافحہ کرنا دینی ضرورتوں میں سے کوئی ضرورت ہے۔بعض لوگ محبت میں گداز ہوتے ہیں میں ان کو الگ کرتا ہوں کیونکہ ان پر کوئی قانون جاری نہیں ہو سکتا۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں سارا سارا دن اس کھڑکی کے سامنے بیٹھے رہتے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر آیا کرتے تھے۔اور جب باہر آتے تو وہ آپ سے مصافحہ کرتے یا آپ کے کپڑوں کو ہی چھو لیتے۔ایسے لوگ محبت کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں۔مگر مجھے شبہ ہے کہ