خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 105

خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۳ء کی سنیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی طرف سے خلاف آداب حرکات سرزد ہو جاتی ہیں۔مثلاً یہی کہ کہتے ہیں جَزَاكَ اللهُ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بس کریں اب ہم سے زیادہ باتیں نہیں سنی جاتیں۔مگر وہ بھی اپنی طبیعت کے ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ جَزَاكَ اللهُ خوش ہوکر اور زیادہ باتیں سنانے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جزاك الله تعریف کیلئے نہیں بلکہ گفتگو بند کرانے کیلئے کہا گیا ہے۔پس یہ ایک مرض پیدا ہو رہا ہے جس کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں لوگ میری وجہ سے یہ تو دوسرے کو نہیں کہہ سکتے کہ چُپ کرو اور میں بھی حیا کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے اشاروں میں انہیں بات کہی جاتی ہے جو گرے ہوئے اخلاق پر دلالت کرتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ بجائے اس کے کہ اپنی گفتگو سنائیں جو وہ پوچھنا چاہتے ہوں پوچھیں۔پچھلے ایام میں میں ایک جگہ گیا وہاں بہت سے دوست میرے ملنے کیلئے جمع ہوگئے۔مگر و گھنٹہ تک ایک شخص مجھے اپنا مباحثہ ہی سناتا رہا اور آخر رات کے ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اُس کی گفتگو ختم ہوئی۔مگر اُس وقت اتنا وقت گزر چکا تھا کہ میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور دوست بھی جو میری باتیں سننے کیلئے آئے تھے چلے گئے۔وہ اس سارے عرصہ میں یہی سناتے رہے کہ اس نے یوں کہا میں نے یوں جواب دیا پھر اس نے یہ کہا میں نے یہ کہا۔حالانکہ مباحثات کی تفصیل کی مجھے ضرورت نہیں ہوتی اور کو دوسروں کو ضرورت ہو بھی مگر وہ محبت اور اخلاص کی وجہ سے میری باتیں سننے کے مشتاق ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں سے باتیں سننے کیلئے کافی اوقات ہیں۔پس گفتگو ایسے رنگ میں ہونی چاہیئے کہ دوستوں کا اصل مقصد یعنی یہ کہ وہ میری باتیں سننے کیلئے آتے ہیں کسی طرح فوت نہ ہو جائے اور وقت ضائع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو ایسا بنایا ہے کہ لمبی چوڑی فلسفیانہ تقریریں اس پر وہ اثر پیدا نہیں کرتیں جو اخلاص سے کسی ہوئی ایک چھوٹی سی بات کر جاتی ہے۔گھروں میں روزانہ ا جاتا ہے۔بعض اوقات بچہ رضد میں آکر ایک بات نہیں مانتا، ہزاروں دلائل دو وہ کچھ نہیں لیکن جب ماں کے بیٹا یوں کرنا اچھا نہیں ہوتا تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔اس پر غیر کی زبردست دلیلیں اثر نہیں کرتی مگر ماں کا یہ فقرہ کہ ایسا کرنا اچھا نہیں ہوتا فوراً اثر کر جاتا ہے۔اسی طرح لوگوں کے سامنے اخلاص ہوتا ہے وہ دوسروں کی فلسفیانہ تقریریں سننا پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے امام کے منہ سے چند سادہ کلمات سننا چاہتے ہیں اور یہ محبت کے کرشمے ہیں۔سنتا