خطبات محمود (جلد 13) — Page 618
خطبات محمود YIA سال ۱۹۳۲ء میں خداتعالی اس میں ایسے لوگ بھی پیدا کرتا رہتا ہے جو ان انعامات کے جاذب ہوتے ہیں۔یہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ والے لوگ کون ہیں۔اللہ تعالی نے اس مسئلہ کو اس زمانہ میں ایسا کھولا ہے کہ ہماری جماعت کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے۔سورہ نساء میں بتایا گیا ہے کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے مراد امت محمدیہ کے ایسے افراد ہیں جو رسول کریم می علم کی کامل متابعت اور فرمانبرداری کی وجہ سے نبوت صدیقیت ، شہیدیت اور صالحیت کے مقام پر پہنچیں یا جیسا کہ قرآن مجید کی بعض اور آیات سے ثابت ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی کا کلام نصیب ہو اور جو وحی اور کشوف کی نعمت سے متمتع ہوں۔غرض جب تک کسی قوم میں وحی الہام اور کشوف کا سلسلہ جاری رہتا ہے یہ دلیل ہوتی ہے اس بات کی کہ وہ قوم اتناكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر عمل کر رہی ہے۔اور جب کسی قوم سے سلسلہ وحی و الہامات اور کشوف بند ہو جائے تو یہ دلیل ہوتی ہے اس بات کی کہ اس قوم سے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے اور اس پر عمل کرنے والے مٹ گئے۔پس جب کوئی قوم یہ کہتی ہے کہ ہم میں سے کسی کو الہام نہیں ہو سکتا یا ہوا کرتا تھا مگر اب نہیں ہو سکتا تو اس کی ایک ہی وجہ ہوگی اور وہ یہ کہ اس کے دلوں سے توحید مٹ چکی عبادت مٹ چکی اور تو کل بھی جاتا رہا کیونکہ توحید کے ساتھ اگر عبادت اور استعانت ہو تو اس کا لازمی نتیجہ الہام ہوتا ہے اور جب کوئی شخص کامل توحید پر قائم ہو گا اور کامل عیادت بھی بجالائے گا تو یقینا وہ وحی اور الہام کا بھی مورد ہو جائے گا۔اس زمانہ میں یہ نعمت بہت کچھ مٹ گئی تھی اور قریب قریباً اس کا نام و نشان تک جاتا رہا تھا یہاں تک کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا تھا کہ وحی اور الہام کا دروازہ بند ہو چکا اور اگر بعض ان میں سے کھلا مانتے بھی تھے تو اس طرح کہ اس کا مانانہ ماننا برابر تھا۔جیسے نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ دل کے خیال کا نام ہی الہام ہے۔خواب چونکہ بچے کے علاوہ جھوٹے بھی اکثر لوگوں کو آتے ہیں اس لئے خوابوں پر لوگوں کا یقین قائم ہے۔مگر الہامات کاوہ اس لئے انکار کر چکے کہ جھوٹا الہام ذرا کم ہوتا ہے کیونکہ جس دماغی کیفیت کے ماتحت جھوٹا الہام ہوتا ہے وہ لوگوں میں کم پائی جاتی ہے اور جب تک دماغ زیادہ خراب نہ ہو جھوٹے الہام نہیں ہو سکتے۔مگر خوا ہیں تو ایسی چیز ہیں کہ ذرا زیادہ پیٹ بھر کر کوئی کھائے تو خواب آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی عام مشہور ضرب المثل ہے کہ "ہلی کو چھیچھڑوں کے خواب "۔یہ نہیں کہتے کہ بلی کو چھچھڑوں کے الهام - میرا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو جھوٹے الہام نہیں ہوتے۔ایسے الہام بھی لوگوں کو ہوتے بهار