خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 617

خطبات محمود 416 72 سال ۱۹۳۲ء اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی سعادت حاصل کرو حضرت مولوی عبد الستار صاحب افغان کا ذکر خیر (فرموده ۲۸- اکتوبر ۱۹۳۲ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔سورہ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے انعامات اور اس کی ہدایت ہمیشہ اس قوم کے ساتھ وابستہ رہتی ہے جو شرک سے مجتنب اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہے اور جس کا تو کل کلی طور پر خدا تعالی کی ذات پر ہو۔اس کی طرف سورہ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نستعين کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے۔اس آیت میں ایاک نَعْبُدُ پہلے رکھا گیا ہے اور بتایا کہ کامل عبادت اللہ تعالی ہی کی بجالانی چاہئے اور پھر ايَّاكَ نَسْتَعِينُ سے یہ بتایا کہ کامل تو کل بھی اسی کی ذات پر ہونا چاہئے۔ان دونوں باتوں یعنی کامل عبادت اور کامل توکل کے نتیجہ کے طور پر فرمایا مومن کہتا ہے اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی جب مه میں اس طرح تیری عبادت کرتا ہوں جو توحید پر قائم ہونے کا مفہوم اپنے اندر رکھتی ہے اور جب میں تجھ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں جو تو کل کا مقام ہے تو اب میرا حق ہے کہ میں تجھ سے درخواست کروں کہ مجھے وہ راستہ دکھا جو انعام والوں کا ہے اور جس پر چل کر تیرے حضور پہلے لوگ انعام حاصل کر چکے۔ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کسی جماعت میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِین کا مادہ باقی رہے، اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ خدا سے یہ بھی کہتی رہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور پھر اس دعا کے نتیجہ