خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 619

خطبات محمود 419 سال ۱۹۳۲ء ہیں مگر جب تک کوئی شخص پاگل نہ ہو جائے یا دماغ میں زیادہ خرابی پیدا نہ ہو اس کیفیت سے وہ ناواقف رہتا ہے۔لیکن خوابیں ایسی عام چیز ہیں کہ ذرا کھانا زیادہ کھالیا تو مختلف نظارے دکھائی دینے شروع ہو گئے۔تیز بخار ہو جائے تو اس میں بھی بعض نظارے نظر آجاتے ہیں۔اور ہمار املک چونکہ گرم ہے اس میں سڑاند زیادہ پھیل جاتی ہے اور ملیریا وغیرہ بخاروں کے کیس زیادہ ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان بخاروں کی وجہ سے بھی لوگوں کو اکثر خوابیں آتی رہتی ہیں۔اس کے مطابق جب انہیں خوابیں آتی ہیں تو وہ خیال کرتے ہیں کہ اسی طرح نبیوں کو بھی خواہیں آجایا کرتی ہوں گی۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کو تو ویسے ہی خواب آتے ہیں جیسے بلی کو چھیچھڑوں کے۔لیکن انبیاء کی خواہیں ایک اور چیز ہوتی ہیں۔مگر بہر حال اتنا وہ ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں کہ انبیاء کو خواہیں آسکتی ہیں۔لیکن چونکہ ان کے کان آوازوں سے آشنا نہیں ہوتے اور ملائکہ کی آواز تو انہوں نے کیا سنی ہے کبھی ان کے کان بھی نہیں بجتے کیونکہ اتنے مجنون وہ ہوتے نہیں کہ انہیں اس قسم کی آواز میں سنائی دینی شروع ہو جائیں۔اس لئے وہ کہتے ہیں کہ الہام ہر گز نہیں ہو سکتا۔ورنہ اگر انہیں بھی کوئی الهامی آواز سنائی دیتی یا جیسے بد خوابی یا بیماری کی وجہ سے اکثر خواب آتے ہیں اسی طرح اگر ایسا ہو تاکہ ذرا نزلہ ہوا اور وہ آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔تو وہ اپنی حالت پر قیاس کر کے کہتے کہ ہاں نبیوں کو بھی الہام ہو تا ہو گا۔غرض خوابوں کی کثرت اور الہامات کی قلت کی وجہ سے لوگوں کا خوابوں پر تو ایمان رہا مگر الہام کے نزول پر سے ان کا اعتقاد جاتا رہا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب مسلمانوں میں روحانی بعد پیدا ہوا اور ان پر ظلمت اور تاریکی چھا گئی تو وہ کہنے لگ گئے کہ اب الہام ہو ہی نہیں سکتا۔اور اگر کہیں اپنے بزرگوں کی کتابوں میں لکھا ہوا دیکھتے کہ الہام ہو سکتے ہیں تو وہ اس کی تاویل کر دیتے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم الشان فضل ہے کہ اس نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کر نہ صرف الہام کا علم ہمیں عطا فرمایا بلکہ الہام سے حصہ بھی دیا حصہ دینا تو بہت بڑا فضل ہے۔میں کہتا ہوں صرف دلوں میں الہام کی امید پیدا کر دینا بھی بڑی چیز ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل دنیا کو یہی نعمت مل جاتی کہ لوگ یقین کر لیتے کہ الہام الہی ہو سکتا ہے اور کہ یہ دروازہ روحانی ترقی کرنے والوں کے لئے ہمیشہ کھلا ہے تو یہی بڑی بات تھی۔لوگ کہتے کہ دنیا امید پر قائم ہے آج اگر ہم یہ نعمت حاصل نہیں کر سکے تو کیا ہوا کل حاصل کرلیں گے۔ہم نہیں تو اور لوگ حاصل کرلیں گے اور اگر اس زمانہ کے لوگوں کو الہام الہی سے حصہ نہ بھی ملتا تب بھی لوگ کہتے کہ خدا نے دروازہ تو کھلا رکھا 4۔