خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 598

خطبات محمود ۵۹۸ سال ۱۹۳۲ء آجاتا۔اس طرح مجھے اپنی خواہش پوری کرنے کا کبھی موقع میسر نہ آیا۔اب میں اس قابل ہوا کہ مہریں پیش کروں اس وقت ان کی تنخواہ اسی پچاسی کے قریب تھی ، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔غرض ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو قربانی کرتے ہی نہیں یا معمولی قربانی کر کے شکوہ سنج ہوتے ہیں۔اور ایک ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ اعلیٰ قربانیاں کر کے بھی یہ شکوہ ہوتا ہے کہ قربانی کا موقع نہیں ملا۔یا جو ملا ہے وہ بہت کم ہے۔غرض یہ لوگ قربانیاں کرتے اور اسی میں راحت محسوس کرتے ہیں۔اسی میں ان کو سرور اور لطف حاصل ہوتا ہے۔اور میرے نزدیک یہی چیز ہے جس کا نام جنت ہے۔بتلاؤ وہ شخص بھی کبھی تکلیف میں ہو سکتا ہے جس کا کوئی مالی نقصان ہو ، جسے کوئی بدنی تکلیف پہنچے ، جس کے رشتہ داروں میں سے کوئی فوت ہو جائے لیکن وہ ان سب مواقع پر صبر کرے۔اور دلی یقین سے یہ سمجھے کہ خدا کی چیز تھی اسی نے لے لی۔ایسے شخص کو رنج دلانے والی کون سی چیز ہو سکتی ہے۔عبد اللہ بن مظعون سے آنحضرت میر کو بہت پیار تھا۔جب آپ کا بچہ ابراہیم فوت ہوا تو اس وقت آپ نے فرمایا جاؤ عبد اللہ بن مظعون کے پاس۔ان کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ جب انہیں اسلام کی وجہ سے کفار کی طرف سے بہت تکلیفیں دی گئیں تو وہ ہجرت کر گئے۔راستہ میں انہیں ابن یعلیل ملے۔اور جب یہ معلوم ہوا کہ عبداللہ کفار کی مصیبتوں کی وجہ سے مکہ چھوڑ رہے ہیں۔تو چونکہ پرانے تعلقات تھے انہوں نے کہا تم ہجرت نہ کرو۔میں تمہیں اپنی حفاظت میں لیتا ہوں۔پھر تمھیں کوئی تنگ نہیں کر سکے گا۔چنانچہ اس وعدہ پر وہ انہیں واپس لے آئے۔جب عبد اللہ بن مطعون واپس مکہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ دوسرے مسلمان بھائی کفار کی طرف سے سخت تکالیف میں ہیں۔لیکن انہیں ابن یعلیل کی حفاظت میں ہونے کی وجہ سے کوئی کچھ نہ کہتا تھا۔یہ حالت دیکھ کر وہ برداشت نہ کر سکے اور ابن یعلیل سے جا کر کہہ دیا یہ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا کہ میرے دوسرے مسلمان بھائیوں کو تو مصیبتیں آئیں اور میں مزے سے پھرتا رہوں۔یہ کہہ کر اس کی ضمان واپس کر دی۔تواریخ میں آتا ہے اس کے بعد وہ ایک مجلس میں پہنچے جہاں ایک مشہور شاعر اپنا کلام سنا رہا تھا یہ شاعر بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔شاعر نے پڑھا الا كل من مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِل اس کی آنحضرت امام نے بھی تعریف فرمائی ہے۔جب عبد اللہ بن مطعون نے یہ سنا تو کہنے لگے ٹھیک کہا ٹھیک کہا۔شاعر بہت بڑے پائے کا تھا۔اس کو ایک بچہ کی تعریف بھی ناگوار گزری اور