خطبات محمود (جلد 13) — Page 599
خطبات محمود ۵۹۹ سال ۱۹۳۲ء اس نے مجلس کو مخاطب کر کے کہا تمہارے شہر کے لونڈوں کو کوئی تمیز نہیں کہ وہ سر مجلس بڑوں کی ہتک کرتے ہیں۔اس پر لوگوں نے عبد اللہ بن مظعون کو برا بھلا کہہ کر چپ کرا دیا اور شاعر سے معذرت کی۔پھر اس نے پڑھا وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَعَالَةَ ذَائِلَ یعنی ہر نعمت بهر حال محو اور زائل ہو جائے گی۔عبد اللہ بن مظعون نے کہا یہ درست نہیں۔جنت کی نعمتیں ضائع نہیں ہوں گی۔پہلے تو ایک نو عمر کے منہ سے شاعر کو اپنی تعریف بھی گراں گزری تھی۔مذمت سن کر تو وہ برداشت نہ کر سکا اور کہہ اٹھا ایسے بد تمیزوں کی مجلس میں میں اب اپنا کلام نہیں سناؤں گا۔شاعر کی ناراضگی نے مجلس میں بھی جوش و غصہ کی لہر پیدا کر دی اور کسی شخص نے مکا مار کر عبد اللہ کی ایک آنکھ نکال دی۔اس وقت ابن یعلیل نے کہا دیکھا ! میں نہ کہتا تھا میری حفاظت سے باہر نہ نکلو میری پناہ چھوڑی تو یہ حال ہوا کہ اپنی آنکھ نکلوالی- عبد اللہ نے کہا تمہاری پناہ کیسی میری تو دوسرے آنکھ بھی دین کی راہ میں اسی بات کا انتظار کر رہی ہے۔اب نام دیکھو آنکھ کا نکلنا ایک دنیا دار کی نگاہ میں مصیبت اور تکلیف کا موجب ہے لیکن ایک دیندار کے نزدیک اس میں راحت ہے۔پھر انسان اولاد کو باعث راحت سمجھتا ہے لیکن اسے کیا معلوم کہ وہی اولاد اس کے لئے کل دکھ اور وبال کا موجب ہو جائے گی۔ابو جہل کے ماں باپ نے اس کی پیدائش پر کتنی خوشیاں منائی ہوں گی لیکن اس کے اعمال کو معلوم کر کے اس کے باپ کو جو شاید جنت میں ہی ہو کیونکہ آنحضرت میام کی بعثت سے پہلے فوت ہو چکا تھا کتنی تکلیف ہوئی ہوگی۔اور اس کی ماں کی کتنی زبر دست خواہش ہوگی کہ کاش میں ایسا بچہ نہ جنتی یا پیدائش کے بعد اسے زندہ درگور کر دیتی۔دنیا کی دوسری چیزوں کا بھی یہی حال ہے۔اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے متعلق یقینی طور پر انسان کہہ سکے کہ یہ میرے لئے سکھ کا موجب ہے۔ہاں حقیقی قربانی ایک ایسی چیز ہے جو حقیقی مسرت دلا سکتی ہے اور حقیقی جنت یہی ہے کہ انسان اس بات کو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قربانی کرنے سے ہی آرام اور سرور حاصل ہو سکتا ہے۔اور پھر یہ سمجھنے کے بعد اس پر عمل پیرا بھی ہو جائے۔اس کے خلاف کا نام دوزخ ہے۔اور یہ جنت اور دوزخ بنانا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔جو شخص اپنے لئے جنت پیدا نہیں کرتاوہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔اور جتنا کوئی دنیا سے محبت کرے گا اور ورلی زندگی کی زیبائشوں کو اپنے لئے وجہ مسرت بنائے گا اتنا ہی وہ اپنے لئے دوزخ تیار کرے گا۔کیونکہ جب کوئی رشتہ دار فوت ہو گا اس کے لئے دوزخ بیوی بچوں کو