خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 597

خطبات محمود 096 سال ۱۹۳۲ء انتہاء ہی نہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ بے شک مرنا تو ہر ایک کو ہے لیکن جنگ میں یعنی جہاد کے لئے نکلے تو انسان نوجوانی میں ہی مرجاتا ہے۔میں کہتا ہوں مرجاتا ہے تو پھر کیا ہوا۔در حقیقت اس کے لئے مرنا ہی زندگی ہے۔لیکن یہ بھی غلط ہے کہ نوجوانی کی موت کا سبب صرف جنگ ہی ہے بلکہ اگر بیماری کی وجہ سے مرنے والوں کے اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ نوے فیصدی مرنے والے وہ ہوتے ہیں جو جوانی کی موت مرتے اور اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔غرض جب موت سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا اور کسی نہ کسی بہانہ سے اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے تو کیوں نہ انسان عزت کی موت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو۔اسی طرح مال و دولت کا حال ہے۔اس میں نقصان ہو تا رہتا ہے، چور لے جاتے ہیں۔گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو ڈاکٹروں اور دوائیوں پر بہت سا روپیہ اٹھ جاتا ہے۔لیکن اگر اس مال کو دین کی راہ میں خرچ کیا جائے تو برضاء و رغبت دین کے لئے مالی قربانیاں کی جائیں تو نتیجتا انسان بہت زیادہ نفع میں رہتا ہے۔پرسوں ہی ایک دوست کا خط آیا۔میں نے دیکھا کہ خط بہت ہی اخلاص سے لکھا ہوا تھا۔اس میں وہ لکھتے ہیں آپ کہتے ہیں بشاشت سے چندے دو۔میں وہ روحانی بشاشت کہاں سے حاصل ہو سکتی ہے۔جب کہ ہمیں پہلے کھانے کے لئے مل جاتا ہے پھر چندے دیتے ہیں۔چندہ تو ان کا ہے جن کے پاس کھانے کو بھی نہیں ہو تا لیکن وہ چندے بھیجتے ہیں۔اصل بشاشت بھی انہی کو حاصل ہے۔مجھے ہمیشہ ایک واقعہ یا د رہتا ہے۔منشی اروڑہ صاحب جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد مستقل طور پر قادیان میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ایک دفعہ انہوں نے مجھے دو یا تین پاؤنڈ دیئے اور کہا کہ اماں جان کو دے دینا اس کے ساتھ ہی رو پڑے۔یہ واقعہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد کا ہے۔میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کی وفات کی یاد سے رو رہے ہیں۔آخر جب دیر تک روتے رہے اور ان کی ہچکی بندھ گئی تو میں نے روکنے کے لئے کہا۔آپ روتے کیوں ہیں؟ کہنے لگے جب میں نے بیعت کی میں چھ یا سات روپیہ کا نو کر تھا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چندہ کی تحریک کی۔اس وقت اپنی اسی تنخواہ میں سے بچا کر جب قادیان آتا تو وہ تھوڑی سی رقم ساتھ لے آتا تاوہ دین کی راہ میں خرچ ہو۔لیکن میری خواہش ہمیشہ یہ ہوتی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں سونے کی مہریں پیش کروں۔اسی مقصد کے لئے میں اپنی تنخواہ میں سے بچاتا رہتا۔لیکن قبل اس کے کہ وہ مہریں بننے کی مقدار کا ہو بہت دیر ہو جاتی اور میں وہی روپے لے کر قادیان میں