خطبات محمود (جلد 13) — Page 527
خطبات محمود ۵۲۷ سال ۲ اسی طرح لوگ اپنے مونہہ میں رسمی طور پر دعا کرو ، دعا کرو کے الفاظ داخل کر لیتے ہیں۔چنانچہ جب ۱۹۰۵ء کا شدید زلزلہ آیا تو لاہور میڈیکل کالج کا ایک طالب علم جو دہریہ تھا اور اس وقت ایک مکان کی دیوار کے نیچے کھڑا تھا رام رام کہتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔لوگوں نے پوچھا کیا تو خدا کو مانتا ہے۔اس نے کہا یونہی منہ سے نکل گیا تھا۔ورنہ میں خدا کا قائل نہیں۔بالکل ممکن ہے کہ اس وقت کی حالت کے مطابق اس کے دل میں خشیت الہی پیدا ہو گئی ہو یا ماں باپ سے سنا ہوار سمی طور پر لفظ اس کے مونہہ سے نکل گیا ہو۔تو دعا کے متعلق بھی بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں جن کو یقین یا خیال تو بالکل نہیں ہو تا کہ دعا بھی کوئی اثر رکھتی ہے مگر صرف عاد تا اسے دہرا دیتے ہیں۔مصیبت ، تکلیف ، ضرورت لاچاری اور بیماری کے اوقات میں وہ دعائیں کرتے اور کراتے ہیں لیکن یہ سب کچھ رسم کے طور پر ہوتا ہے۔ایک اور بڑی مشکل دعا کے مسئلہ میں یہ ہے کہ دعا ہم سے بظاہر ایک ایسی چیز کی مخالفت کراتی ہے جس کو ہم ہر روز بصراحت دیکھتے ہیں۔اس لئے دعا کا قلب پر عام طور پر وہ اثر نہیں ہوتا جو ہونا چاہئے۔اور وہ عالم اسباب ہے۔مثلاً بظا ہر پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔روٹی کھانے سے ہم سیر ہو جاتے ہیں۔محنت کرنے سے اس کا پھل پاتے ہیں۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دعا کی کیا ضرورت ہے۔بیمار اگر اپنی بیماری کے مناسب حال دوائی استعمال کرے گا تو اچھا ہو جائے گا اور اگر علاج نہیں کراتا تو دعا کے پورا ہونے کا یقین رکھنے والے بھی مانتے ہیں کہ وہ غلطی کرتا ہے۔غرض عالم اسباب تو ہم کو یہ کہتا ہے کہ بغیر اسباب کے نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔اور اسباب کے نتائج میں بظاہر کسی غیبی طاقت کا اثر معلوم نہیں ہو تا۔مثلا پیاس لگتی ہے اور پانی سے بجھ جاتی ہے۔تھے کو ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ پانی لاتا ہے۔خدا کے فرشتے نہیں لاتے۔کنواں ایک مجسم چیز ہمارے سامنے ہے جس کو دیکھ کر ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ذخیرہ ہے جس میں سے پانی آتا ہے۔پھر اس ذخیرہ کو کھو دا بھی ہمارے آدمیوں نے ہے۔پھر پانی کے متعلق ہم دیکھتے ہیں، وہ بھی ایک قانون کے ماتحت ہے۔اگر بارش ہو تو پانی کنووں میں آجاتا ہے۔اور بارش نہ ہو تو کم ہو جاتا ہے۔اور بارش کا پانی بھی خود قانون کے ماتحت ہے۔یہ وہی پانی ہوتا ہے جسے سورج کی گرمی اُڑا کر لے جاتی ہے اور پھر پانی واپس آجاتا ہے۔اگر پانی بھی نہ ہو تا بلکہ آسمانوں سے آتا تو اور بات تھی۔غرض جتنی دور ہم چلتے جائیں ہم کو اسباب ہی اسباب نظر آتے ہیں۔کوئی کام ایسا نہیں نظر آتا جو اسباب کے بغیر ہو مثلاً کھانے پینے ، رہنے سہنے اور دوستوں کے ساتھ معاملات کرنے میں غرض ہر چیز میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کا سلسلہ جاری ہے ایک منٹ کے لئے